ایرانی محققین نے کرونا وائرس اور انفلوئنزا کے بڑھتے ہوئے چلینج سے خبردار کیا

ساری، ارنا- ایرانی محققین نے برطانوی میڈیکل جرنل (بی ایم جی) میں ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں عالمی حکومتوں کو موسم خزان اور سردیوں کے دوران کرونا وائرس اور انفلوئنزا کے بڑھتے ہوئے چلینج سے خبر دار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تہران میڈیکل سائنس یونیورسٹی کی صحت کالج کے ریسرچ پروفسیرز ڈاکٹر "امیر حسین تکیان"، ڈاکٹر "محسن اعرابی"، ڈاکٹر "ہاجر حقیقی" نے برٹش میڈیکل جرنل کے تازہ ترین شمارے میں "کوویڈ- 19 گلوبلائزیشن اور کووی فلو Covi-Flu کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے صحت عامہ کی عالمی مہم کی ضرورت" کے عنوان کے تحت ایک مضمون کو شائع کیا ہے۔

اس مضمون میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے ایک ایسے وقت جب کوویڈ ۔19 کا حتمی علاج اور ویکسین حاصل کرنے میں کم از کم ایک سال لگے گا اور اس بیماری کے بارے میں بہت ساری باتوں کی شناخت نہیں ہوئی ہے تو موسمی فلو کے پھیلنے سے آنے والے مہینوں میں دنیا بھر کے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔

ایرانی محققین نے مزید کہا ہے کہ اس وقت دنیا کو کووی فلو Covi-Flu نامی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا جو موسمی فلو کے اثرات اور کوویڈ 19 کے بحران کے نتائج کا ایک مجموعہ ہوگا۔

انہوں نے اس مضمون کے ایک حصے میں پابندیوں کے باوجود کوویڈ-19 کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایرانی نظام صحت کی کارکردگی کو بھی سراہا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha