ایرانی صدر کا کرونا وائرس پر اطالوی عوام سے ہمدردی کا اظہار

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کرونا وائرس کے بحران پر اطالوی عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی علم پر مبنی کمپنیوں نے کوویڈ-19 کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے اچھے تجربات کیے ہیں جن کو اٹلی سے شیئر کرنے پر تیار ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے پیر کے روز اطالوی وزیر اعظم کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممالک ایک دوسرے کیساتھ تعاون کیے بغیر اس مشکل صورتحال پر قابو نہیں پاسکتے ہیں لہذا ہم کرونا وائرس کی روک تھام پر اپنے تجربات کے تبادلہ پر تیار ہیں۔

صدر روحانی نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ سب سے اہم بات ہے لیکن امریکہ نے اس مشکل صورتحال میں ایرانی عوام کیخلاف سخت سے سخت دباؤ ڈال دیا اور اس موقع پر ان کا اس طرح غیر انسانی سلوک، ایرانی عظیم قوم کیخلاف ایک سنگین جرم ہے اور ساتھ ہی تمام بین الاقوامی اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی بھی۔

انہوں نے ایران کیخلاف امریکی غیر قانونی پابندیوں کے تسلسل اور ساتھ ہی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کیلئے ایرانی درخواست کی مخالفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ یورپی ممالک بالخصوص اٹلی امریکی غیر قانونی اقدامات کیخلاف موقف اپنائیں۔

صدر روحانی ایران جوہری معاہدے سے متعلق اطالوی موقف اور اٹلی کیجانب سے اس بین الاقوامی معاہدے کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر دیگر فریقین اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کریں ہم بھی اس معاہدے کا بھر پور نفاذ کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اٹلی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں اہم پوزیشن حاصل ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ یورپی یونین کو جوہری معاہدے کے بھر پور نفاذ کی دعوت کرے گا۔

 انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کیلئے یورپ کے مالیاتی نظام انسٹیکس ابھی بھی موثر اقدام اٹھانے اور کلیدی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اس مشکل صورتحال میں انسانی جانوں کا تحفظ، سیاسی مسائل سے اہم ہے اور سب پر واضح ہے کہ عالمی برادری کی تقدیر بالکل ایک دوسرے کیساتھ منسلک ہے لہذا ہمیں امید ہے کہ اٹلی اس نازک صورتحال میں ایک ایسا اقدام اٹھائے جس سے ساری قوموں کو فائدہ ہوگا۔

صدر روحانی نے خطے میں قیام امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہزمر امن منصوبے کے مطابق علاقائی امن صرف خطی ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعے حاصل ہوگا اور خطی معاملات میں اغیار بالخصوص امریکی مداخلت، علاقائی امن کو خطرات کا شکار کرے گی۔

در این اثنا برطانوی وزیر اعظم "چوزبہ کونتہ" نے ایرانی عوام اور حکومت سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم  ایران کے مشکلات کو بخوبی سمجھتے ہیں کیونکہ ہم دونوں ملکوں کو مشترکہ مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے اور ہم کرونا وائرس کی روک تھام میں ایرانی تجربات سے فائدہ اٹھانے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے باہمی تعلقات کی توسیع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم جوہری معاہدے اور انسٹیکس مالیاتی میکنزم پر ایران سے تعاون پر تیار ہیں اور ساتھ ہی گروپ سون اور گروپ جی 20 میں موثر اقدامات اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے خطے میں قیام امن و استحکام برقرار کرنے سمیت دہشتگردوں کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایرانی کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں خطی مسائل کے حل اور علاقائی امن کے قیام کیلئے ہر کسی مناسب موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha