جنرل سلیمانی کی شہادت سے مزاحمت کی حمایت پر ہمارے راستے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی: ظریف

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد مزاحمتی فرنٹ کی حمایت اور دہشتگردوں کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایران کے راستے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ان خیالات کا اظہار"محمد جواد ظریف" نے پیر کے روز دورہ شام کے موقع پر شامی صدر "بشار اسد" کیساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر شامی صدر نے ایران میں کرونا وائرس کا شکار جان بحق ہونے والوں پر ایرانی حکومت اورعوام کیساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے شام میں دہشتگردوں کیخلاف جنگ میں ایرانی اعلی فوجی کمانڈر شہید جنرل سلیمانی کے مثالی کردار پر زور دیتے ہوئے دہشتگردی کی روک تھام میں شامی حکومت اور عوام کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر ظریف نے کہا کہ اب کرونا وائرس کی وجہ سے رونما ہونے والے بحران کے موقع پر امریکہ کیجانب سے ایران مخالف غیر قانونی پابندیوں کو منسوخ نہ کرنے کے واقعی مقاصد سب پر واضح ہو گئے ہیں۔

انہوں نے ایرانی اعلی فوجی کمانڈر کے جنازے میں شامی نمائندوں کی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد مزاحمتی فرنٹ اور دہشتگردوں کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایران کے راستے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ظریف نے حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے شامی امور "گیل پٹرسوں" سے اپنے ٹیلی فونک رابطے کا ذکر کیا جس میں دونوں فریقین نے آستانہ امن عمل کے کفیل ممالک یعنی ایران، ترکی اور روس کے درمیان آئندہ کے اجلاس اور مشاورت پر بات چیت ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ نے بشار اسد سے شام کی تازہ ترین تبدیلیوں بشمول شام کی آیین ساز کمیٹی، ادلب علاقے کی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ آج بروز پیر دمشق پہنچ گئے جہاں نائب شامی وزیر خارجہ "فیصل مقداد" ان کا با ضابطہ استقبال کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha