پاک ایران کی کورونا کے بحران کے بعد باہمی تعاون بڑھانے کی مشاورت

اسلام آباد، ارنا – کویٹہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصلر  جنرل نے پاکستان کیساتھ سیاسی، ، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات خصوصا سرحدی تجارت کی سطح کو بڑھانے کے لئے ایران کی آمادگی کا حوالہ دیتے ہوئے کرونا کے بعد سرحدی صوبوں سمیت دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ بات محمد رفیعی پیر کے روز پاکستانی صوبے بلوچستان کے وزیر اعلی 'جام کما خان ' کے ساتھ ایک ملاقات میں گزشتہ 4 سالوں کے دوران پاکستانی صوبے بلوچستان اور ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کے درمیان باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہی۔

اس موقع فریقین نے دونوں ممالک کے مابین وسیع تعاون، سرحدی تبادلے ، کورونا وائرس کے پھیلنے سے متعلق تبدیلیاں ، دونوں ممالک کے صوبوں کے مابین سرحدی تجارت اور اقتصادی تعلقات اور کورونا کے پھیلنے کی وجہ مشترکہ سرحدی گزرگاہوں کے روکنے کے باعث تاجروں کیلیے پیداہونے والے مسائل پر بات چیت کی۔

٭٭ کورونا کے بعد مشترکہ تعلقات بڑھانے پر زور

کوئٹہ کے وزیر اعلی نے دونوں ملکوں کے سرحدی صوبوں کے مابین تعاون کی توسیع سمیت اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ جامع تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تعاون کو مزید تقویت دینے کے لئے کرونا کے بعد کا دور بہت اہم اور قابل قدر سمجھا جاتا ہے۔

٭٭ایران کی پاکستان کے ساتھ ہیلتھ پروٹوکول پر دستخط کرنے کی تیاری

اس ملاقات کے دوران، محمد رفیعی نے پاکستان کے ساتھ تکنیکی انجینئرنگ کے تعاون بشمول تفتان- کوئٹہ کی ریلوے لائن اور سڑکوں کی مرمت کے علاوہ اس صوبے کیساتھ شہری خدمات کی ترقی کیلیے ایران کی آمادگی  کا اعلان کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور صوبہ سیستان اور بلوچستان کورونا کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت کو برقرار رکھنے کے لئے ہیلتھ پروٹوکول پر دستخط کرنے کے لئے تیار ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 12 =