امریکہ معاشی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے:  ایران

نیویارک، ارنا – اقوام متحدہ میں ایرانی مستقل مندوب نمائندے نے امریکی وزیر خارجہ کے ایران کے خلاف اسلحہ کی پابندی کے دعوے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیانات کی ایرانی عوام کے خلاف معاشی دہشت گردی کے تسلسل سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک اور کوشش ہے۔

یہ بات "مجید تخت روانچی" نے اتوار کے روز اپنے ٹوئٹر پیج میں کہی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے خلاف جاری معاشی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی ایک اور امریکی کوشش اس بار یہ ہے کہ سلامتی کونسل سے قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرنے اور ایران پر اسلحہ کی پابندی کو جاری رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
تخت روانچی نے کہا کہ امریکہ دوسروں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی رہنمائی نہیں کر سکے گا۔
تفصیلات کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ہفتہ کے روز اپنے ٹوئٹر پیج میں کہا کہ اس سے پہلے کہ ایران مشرق وسطی میں اسلحہ کی نئی دوڑ کا آغاز کرے ، سلامتی کونسل کو اسلحہ کی پابندی میں توسیع کرنی ہوگی۔
ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اسلحہ پابندی 2006 اور 2007 میں ایران کو اسلحہ کی فروخت اور ایران سے اسلحہ کی برآمد پر پابندی کے لئے عائد کیا گیا تھا۔
جوہری معاہدے پر اتفاق کے بعد مقرر کیا گیا تھا کہ یہ پابندیاں 18 اکتوبر 2020 کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی ایران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کی تصدیق کی رپورٹ کے بعد ہٹا دی گئیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha