سربراہ اقوام متحدہ ایران کیخلاف امریکی پابندیوں کی منسوخی کے بدستور خواہاں ہیں

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ کے سربراہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ آنٹونیو گوٹرش کوویڈ-19 کیخلاف موثر مقابلہ کرنے کیلئے ایران کیخلاف امریکی یکطرفہ پابندیوں کو اٹھانے کے بدستور خواہاں ہیں۔

ان خیالات کا اظہار"اسٹفن دوجاریک" نے بدھ کے روز ارنا نمائندے کے سوال کے جواب میں کیا۔

انہوں نے "اقوام متحدہ کے سربراه اور اور اس کے دیگر ذیلی اداروں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ پابندیاں، کوویڈ -19 کیخلاف ایرانی کوششوں پر بُرے اثرات مرتب کریں گی لیکن امریکہ اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں لایا اور ساتھ ہی اس نے عالمی ادارہ صحت کیخلاف بھی ایسا اقدام اٹھایا تو اب اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس حوالے سے کوئی اقدام اٹھانے کی منصوبہ بندی کی ہے؟" کے سوال کا جواب دیا۔

اسٹفن دوجاریک نے کہا کہ پانبدیوں کے سامنے سربراہ اقوام متحدہ کا موقف بالکل واضح ہے؛ انہوں نے بدستور اس بات پر زور دیا ہے کہ پابندیاں، کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی کوششوں کو بہت نقصان پہنچتی ہیں لہذا ان سب پابندیوں کی منسوخی لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنٹونیو گوٹرش نے کھلے عام اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے بعض اراکین سے خصوصی نشستوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ پابندیاں یکطرفہ ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی ریاست، کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس عالمی بحران کے دوران نہ صرف اپنی معاشی دہشتگردی میں کمی نہیں لائی بلکہ اس نے ایرانی عوام کیخلاف مزید دباؤ ڈالنے کا ہر کسی موقع سے غلط فائدہ اٹھایا۔

واشنگٹن نے عالمی مالیانی فنڈ کیخلاف دباؤ ڈالتے ہوئے اس کو ایران کیجانب آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی درخواست کو مسترد کرنے کی کوشش کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا کہا ہے کہ ایران کیخلاف امریکی دہشتگردانہ اقدامات نے کوویڈ-19 کیخلاف ایرانی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے جو انسانیت کو بھی خطڑے میں ڈال سکتا ہے۔

 اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کے دوران کرونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر عالمی ادارہ صحت کے فنڈ روک دیے ہیں جس پر ماہرین صحت نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

صدی کی بدترین عالمی وبا سے نمٹنے میں ناکامی اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر وہ مستقل اپنا غصہ عالمی ادارہ صحت پر نکال رہے ہیں۔

ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے وائرس کے حوالے سے چین کی غلط معلومات کو فروغ دیا جس کی وجہ سے یہ کئی گنا بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان "سید عباس موسوی" نے کہا ہے کہ امریکہ اس مشکل صورتحال اور اس عالمیگر وبا کیخلاف لڑنے کے موقع پر اچانک عالمی صحت کے واحد رابطہ کار کو سزا دے رہا ہے اور اس کا یہ اقدام غیر ذمہ دارانہ اور انسانیت کیخلاف جرم ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha