عالمی اداره صحت کیخلاف امریکی اقدام انسانیت کیخلاف جرم ہے: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اس مشکل صورتحال اور اس عالمیگر وبا کیخلاف لڑنے کے موقع پر اچانک عالمی صحت کے واحد رابطہ کار کو سزا دے رہا ہے اور اس کا یہ اقدام غیر ذمہ دارانہ اور انسانیت کیخلاف جرم ہے۔

 "سید عباس موسوی" نے اس نازک صورتحال میں امریکی صدر کیجانب سے عالمی ادارہ صحت کے فنڈز کے روکنے پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو امریکہ کیجانب سے بین الاقوامی تنظیموں کی کثیر الجہتی مہم کو کمرزو بنانے کا مقصد قرار دے دیا اور اس کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے لوگوں کے زندگی کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے تا ہم امریکہ اس مشکل صورتحال اور اس عالمیگر وبا کیخلاف لڑنے کے موقع پر اچانک عالمی صحت کے واحد رابطہ کار کو سزا دے رہا ہے اور اس کا یہ اقدام غیر ذمہ دارانہ اور انسانیت کیخلاف جرم ہے۔

موسوی نے کہا کہ امریکی صدر کیجانب سے عالمی ادارہ صحت کے فنڈز کو روکنے کا اقدام، الزام تراشی اور کرونا وائرس کی روک تھام میں امریکی حکومت کی نا اہلی کو چھپانے کیلئے ہے۔

انہوں نے امریکی یکطرفہ اقدامات کو غیر موثر بنانے اور عالمی یکجہتی کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی برادری سے عالمی ادارہ صحت کیساتھ کھڑے رہنے کا مطالبہ کیا۔

موسوی نے کہا کہ امریکی حکام کو جاننا چاہیے کہ ان کے اس طرح کے اقدامات، بین الاقوامی برادری سے ان کے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے اور وہ دباؤ ڈالنے اور امداد کو روکنے کی آڑ میں انسان دوستانہ کوششوں پر نقصان پہنچنے کے ذریعے غیر اخلاقی اور غیر قانونی مفادات حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر عالمی ادارہ صحت کے فنڈ روک دیے ہیں جس پر ماہرین صحت نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

صدی کی بدترین عالمی وبا سے نمٹنے میں ناکامی اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر وہ مستقل اپنا غصہ عالمی ادارہ صحت پر نکال رہے ہیں۔

ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے وائرس کے حوالے سے چین کی غلط معلومات کو فروغ دیا جس کی وجہ سے یہ کئی گنا بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha