ایران اور بھارت کا کرونا وائرس کی روک تھام پر تبادلہ خیال

تہران، ارنا- ایران اور بھارت کے وزرائے خارجہ نے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، افغانستان کی تازہ ترین سیاسی تبدیلیوں سمیت دنیا اور علاقے میں کرونا وائرس کے  پھیلاؤ کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

دونوں فریقین نے کرونا وائرس کی عالمی روک تھام کے طریقوں کا جائزہ لینے سمیت ایران مخالف امریکی غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

تفصیلات کے مطابق "محمد جواد ظریف" اور "سبر امنیم جے شنکر" نے پیر کے روز ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، مختلف مسائل پر بات چیت کی۔

انہوں نے افغانستان کی سیاسی تبدیلیوں بالخصوص افغان عمل سمیت علاقے اور دنیا میں کوویڈ-19 کے پھیلاؤ کیخلاف مقابلہ کرنے کے عالمی طریقوں کا جائزہ لیا اور ساتھ ہی ایران کیخلاف لگائی گئی امریکی غیر قانونی پابندیوں سے متعلق بھی گفتگو کی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ظریف نے آج بروز پیر کو اپنے روسی ہم منصب "سرگئی لاوروف" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، افغانستان کے سیاسی بحران بالخصوص افغان امن عمل پر گفتگو کی۔

دونوں فریقین نے یمن کی تازہ ترین تبدیلوں کا جائزہ لیتے ہوئے یمن میں پائیدار جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

 اس کے علاوہ ایران اور روس کے وزرائے خارجہ نے کرونا وائرس کیخلاف مشترکہ مقابلہ کرنے کے طریقوں کا جائزہ بھی لیا۔

 واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے آج کی صبح کو بھی اپنے قطری اور ترک ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطوں کے دوران ان سے افغانستان کے سیاسی تبدیلیوں بالخصوص افغان امن عمل سے متعلق بات چیت کی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ظریف نے گزشتہ روز افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ "حنیف اتمر" سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

انہوں نے اس ٹیلی فونک رابطے کے دوران افغان مختلف سیاسی ڈھروں او گروہوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت سمیت افغانستان میں قیام امن اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے فروغ پر زور دیا۔ 

ایرانی وزیر خارجہ نے اتوار کی رات کو بھی اقوام متحدہ کے سربراہ "انٹونیو گوٹرش" سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں جنگ بندی کا تسلسل جاری رکھنے کیلئے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یمنی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

انہوں نے پائیدار جنگ بندی کو یمنی بحران کے سیاسی حل کا پیش خیمہ قرار دے دیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ظریف نے گزشتہ ہفتے کے دوران، "محمد اشرف غنی" اور "عبداللہ عبداللہ" کیساتھ الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے۔

اس موقع پر ظریف نے ان کو نئی شمسی سال کی آمد پر مبارکباد دیتے ہوئے ان سے باہمی دلچسبی امور، افغانستان کی تازہ ترین صورتحال، افغان صدراتی انتخاب کے بعد رونما ہونے والی صورتحال، افغان امن عمل اور کوویڈ-19 کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے باہمی تعاون سے متعلق بات چیت کی۔

انہوں نے ایک بار پھر افغان امن عمل اور قومی مفاہمت میں اسلامی جمہوریہ افغانستان کے آئین پر مبنی سیاسی ڈھانچے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمام سیاسی ڈھروں پر مشتمل افغان امن عمل کی حمایت کی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha