ظریف اور سربراہ اقوام متحدہ کا امریکی غیرقانونی پابندیوں پر تبادلہ خیال

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کے سربراہ نے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران ایران کیخلاف امریکی غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیوں سے متعلق بات چیت کی۔

تفصیلات کے مطابق "محمد جواد ظریف" اور "انٹونیو گوٹرش" نے اس ٹیلی فونک رابطے کے دوران یمن کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ظریف نے اس سے پہلے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ امریکی لالچ کیخلاف عالمی اخلاقی اقدار کی فتح کیلئے پوری دنیا کو امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنے اور اس کے جنگی جرائم میں شریک نہ ہونے کی ضرورت ہے۔

ظریف نے کہا کہ پابندیوں کے نشے میں دھت امریکی حکومت، کرونا وائرس کیخلاف ایرانی کوششوں پر نقصان پہنچنے کیلئے ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر اور زیادہ زور دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن ہماری حکومت کی پالیسی اپنے عوام کی صحت کا تحفظ ہے کیونکہ عوام کا تحفظ سب سے ضروری بات اور ہماری ترجیحات کا سرفہرست ہے۔

ظریف نے کہا کہ ایران وہ واحد ملک جو اس وبائی مرض کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ادویات اور طبی سہولیات اور ساز و سامان کو آسانی سے خرید نہیں کرسکتا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کرونا اور بائیکاٹ کا امتزاج، بحران کے انتظام کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرتا ہے۔

واضح رہے کہ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے کے دوران اقوام متحدہ کی اعلی کونسل برائے انسانی حقوق کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کرونا وائرس سے متاثرہ تمام ممالک کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام ممالک سے کوویڈ-19 کی روک تھام میں ایرانی کوششوں کے تعاون کا مطالبہ کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha