ایرانی سوشیولوجیکل ایسوسی ایشن کا عالمی تنظیموں کو ایک خط؛ پابندیوں کے تسلسل پر تشویش کا اظہار

تہران، ارنا - ایرانی سوشیولوجیکل ایسوسی ایشن نے عالمی تنظیموں کو ایک خط لکھ کر ایران پر واشنگٹن کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے تسلسل اور کوویڈ 19 سے پیدا ہونے والے بحرانی دور میں ان میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

ایرانی سوشیولوجیکل ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی سوشیولوجیکل ایسوسی ایشن، امریکی سوشیولوجیکل ایسوسی ایشن، یورپی سوشیولوجیکل ایسوسی ایشن اور  مڈل ایسٹ اسٹڈیز ایسوسی ایشن جیسی عالمی تنظیموں کو لکھے گئے ‎ایک خط ایران پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

اس خط میں آیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں نے ایران کے بینکاری اور تجارتی تعلقات کو بھی درہم برہم کردیا ہے جن کی وجہ سے انسان دوستانہ امداد کو بھیجنا اور عوامی صحت کے ساتھ دوائیں، طبی سامان کی خریداری بھی مشکل اور کبھی ناممکن ہوچکی ہے۔

اس خط کے مطابق، معاشی وسائل کی کمی کی وجہ سے ملک میں یونیورسٹی کی تعلیم جیسے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس صورتحال کے تسلسل سے بجٹ اور اعلی تعلیم کے سرمائے میں زبردست کمی واقع ہوگی اور دیگر تعلیمی و تحقیقی شعبوں کے مقابلے، جو ملکی معیشت کے لئے ضروری سمجھے جاتے ہیں، معاشرتی علوم کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچے گی۔

اس خط میں آیا ہے کہ آج ہم کو ہر دور کی نسبت انسانی یکجہتی اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ایرانی محکمہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز تک ملک بھر میں کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 68192 ہوگئی، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1972افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے 3969 افراد کی حالت تشویشناک ہے اور اب تک 4232افراد جاں بحق اور 32309افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha