کرونا کے خطرے میں چھ ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی ضروری ہے: ایرانی چیف جسٹس

ہران، ارنا – ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے  کرونا کے خطرے میں چھ ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تشویشناک صورتحال میں اسرائیل کی جیلوں میں 5800 فلسطینی قیدی موجود ہیں جن میں 200 خواتین اور بچے بھی شامل ہیں یہ ہمارے کے لیے پریشان کن ہے۔

یہ بات آیت اللہ سید ابراہیم رئيسی نے فلسطینی تنظیم حماس کے سیاسی شعبہ کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے غزہ کو دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی قید میں 5800 فلسطینی قیدی موجود ہیں جن میں 200 خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے بیت المقدس کی آزادی کو ایران اور مسلمانوں کی سب سے بڑی آرزو قراردیتے ہوئے کہا کہ آج اسرائیل نے غزہ کا ظالمانہ محاصرہ کررکھا ہے اور اسرائیل کا یہ ظالمانہ اقدام ناقابل قبول اور انسانی کرامت کے خلاف ہے۔

انسانی حقوق کونسل کے سربراہ نے غزہ میں طبی وسائل اور ادویات میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ اقدام بشریت کے خلاف جارحیت اور بربریت ہے غزہ کے فلسطینی مسلمانوں ابتدائی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے کہا کہ آج شہید سلیمانی زندہ ہے دنیا کے گوشہ گوشہ میں کئی ملین سلیمانی موجود ہیں جو اپنی ذمہ داری پر عمل پیرا ہیں ۔آج ہر ایرانی، ہر لبنانی ، ہر فلسطینی اور ہر عراقی اسرائیل اور عالمی سامراجی طاقتوں کے خلاف سپاہ اسلام کے عظيم کمانڈر شہید سلیمانی کی ذمہ داری کو اپنے دوش پر اچھی طرح محسوس کررہا ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس کے سابق وزیر اعظم اور سیاسی شعبہ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے مسئلہ فلسطینی کے بارے میں ایرانی حکومت اور عوام کی بصیرت، آگاہی ، بیداری  اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کی طرف سے فلسطینی عوام کی بھر پور حمایت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ  فلسطینیوں پراسرائيل کے بے رحمانہ مظالم  اور عرب حمکرانوں کی مسئلہ فلسطین کے بارے میں سازش ،غفلت اور سستی کو تاریخ میں یاد رکھا جائےگا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha