ایرانی بینکاری نظام کا کرونا کے معاشی برے نتائج کو روکنے کیلئے اقدامات

تہران، ارنا - کرونا پھیلنے کے معاشی منفی نتائج سے نمٹنا ایرانی حکومت اور بینکاری نظام کے بنیادی منصوبوں میں سے ایک ہے ، جس کے مطابق سستی سہولیات کی فراہمی ، قرضوں کی ادائیگی ملتوی کرنے اور حمایتی منصوبوں پر عمل درآمد کرکے اس بحران کے تباہ کن نتائج کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ یہ اقدامات امریکہ کی بے مثال پابندیوں کے تناظر میں اٹھائے گئے ہیں۔  

کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے تمام ممالک میں تجارت کو چیلنج کا سامنا کردیا ہے ، جیسے معاشی ماہرین پیشوں کی بندش ، بے روزگاری میں اضافہ ، ملازمین کی برطرفی ، کم آمدنی اور دنیا بھر میں کساد بازاری پر انتباہ دیتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا شکار ہے اور مختلف معاشی شعبے اس مسئلے سے نبرد آزما ہیں، خدمت کے شعبے میں کچھ پیشے معطل ہوئے ہیں، بہت سارے دوسرے پیشوں میں ، آمدنی بہت حد تک کم ہوچکی ہے ، قسطوں کی ادائیگی اور وعدے پورے کرنے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان تمام پریشانیوں کے باوجود ، ایرانی حکومت کی جانب سے کورونا بحران کے خراب معاشی پہلوؤں کو محدود کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں اور بنیادی کام بینکاری کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
کرونا وبا سے نمٹنے کے لئے قومی ترقیاتی فنڈ کے ذریعہ ایک ارب یورو مختص کرنا، معیشت میں بہت سے شعبوں کی حمایت کے لئے کم سود والے قرضوں پر مشتمل 75 ہزار ارب ریال کی فراہمی، کرونا کے شکار پیشوں کے قسط قرضوں کی ادائیگی کو تین مہینے کے لئے ملتوی کرنا، 4 لاکھ افراد کو کم سود والے قرضے جن کو کورونا نقصان سے مقررہ آمدنی نہیں ہے اور بینکوں پر واجب الادا قرضوں کی توسیعی مدت کو طول دینا حکومت کے اہم اقدامات میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ، ایک اور اہم مسئلہ جو اس مسئلے پر ایران کے مسائل کو دوگنا کرتا ہے امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں ہیں۔ 
دیگر ممالک نے پابندی کے مسائل سے دور عام بین الاقوامی حالات میں کورونا کے پھیلنے کے دوران اپنی معاونانہ پالیسیاں نافذ کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن ایران بہت سے اوزار سے محروم ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha