انسٹیکس میکنزم کا قیام مثبت ہے لیکن کافی نہیں ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ممکلت نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران ایران کیلئے یورپ کے مالیاتی نظام انسٹیکس کے قیام کو مثبت مگر ناکافی قرار دے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسٹیکس میکنزم کا صرف خوارک اور طبی ساز و سامان کی لین دین کیلئے استعمال نہیں کرنا ہوگا بلکہ اس کے ذریعے ایرانی کی تمام ضروریات کی فراہمی کرنی ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" پیر کی رات "ایمانوئل میکرون" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے پوری دنیا بالخصوص فرانس کی کامیابی کی دعا کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ساری ریاستوں کو جاننا چاہیے کہ بغیر ایک دوسرے کیساتھ تعاون کے اس نازک صورتحال پر قابو نہیں پاسکیں گے۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ پابندیوں نے کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کو ایران کیلئے دوسرے ممالک کی بنسبت بہت مشکل صورتحال میں پھنس دیا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ نے ایران کیخلاف غیرقانونی پابندیاں لگانے سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور ساتھ ہی حالیہ صورتحال میں اپنے اقدامات کے ذریعے 2005 میں منظور کیے گئے عالمی ادارہ صحت کے قوانین کی خلاف وزی کر رہا ہے۔

انہوں نے سربراہ اقوام متحدہ کیجانب سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران ممالک کے درمیان سیز فائر کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ ان کی اس تجویز میں ایران مخالف امریکی معاشی جنگ بھی شامل ہو۔

صدر روحانی نے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ حالیہ صورتحال میں دوست ممالک، ایران مخالف امریکی پانبدیوں کو اٹـھانے کیلئے واشنگٹن پر مزید دباؤ ڈال دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کیخلاف عائد تمام پابندیوں کی منسوخی کی صورت میں ہم جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے تمام وعدوں کے عمل کرنے پر تیار ہیں۔

روحانی نے حالیہ صورتحال میں پابندیوں کی منسوخی اور یورپ کیجانب سے اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کرنے کی ضرورت کی مزید اہمیت ہے۔
انہوں نے بحیرہ عمان، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں قیان امن کی فراہمی کیلئے ایران کیجانب سے پیش کردہ ہرمز امن منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں قیام امن صرف علاقائی ممالک کے تعاون سے فراہم ہوگا۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ ایران نے کبھی خطے کی کسی کشیدگی کا خیر مقدم نہیں کیا ہے اور علاقے میں قیام امن کی بدستور کوشش کی ہے۔
انہوں نے علاقائی ممالک کی خودمختاری کے احترام کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے عراق میں امریکی فوجی نقل و حرکت کو خطی امن کیلئے خطرناک اور نقصان دہ قرار دے دیا۔

اس موقع پر فرانسیسی صدر نے فرانس اور یورپ میں کورنا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال اور اس کی روک تھام سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ سارے ممالک ایک دوسرے کیساتھ تعاون سے اس بحران پر قابو پالیں گے۔

انہوں نے ایران سے تعلقات کی توسیع پر دلچسبی کا اظہار کرتے ہوئے انسٹیکس میکنزم کے نفاذ کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ اس مالیاتی نظام کے ذریعے ایران اور یورپ کے درمیان اقتصادی تعاون میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

میکرون نے علاقے میں ایران کے تعمیری کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے خطے میں قیام امن و استحکام کی فراہمی پر ایران اور فرانس کے درمیان باہمی، علاقائی اور بین الااقوامی تعاون کے فروغ پر دلچسبی کا اظہار کردیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha