کرونا وائرس بین الاقوامی رجحانات پر کیا اثرات مرتب کرے گا؟

تہران، ارنا۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے بین الاقوامی ڈھانچوں کو بہت سست بنادیا ہے اور اس عالمگیر واقعے کے سامنے بین الاقوامی نظام کی کمزوری کو پہلے سے اور کہیں زیادہ بے نقاب کردیا ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ آج گلوبل ولیج میں کوئی ملک دوسرے ملکوں سے ہٹ کے گزارا نہیں کرسکتا۔

کرونا وائرس اب ایک عالمی چلینچ میں تبدیل ہوگیا ہے جس نے تمام ملکوں کو وبائی مرض کے بحران میں پھنس دیا ہے۔

کوویڈ-19 نے سب سے پہلے تین میہنے قبل چین کو متاثر کیا لیکن اب تمام ممالک اس وبائی مرض کا شکار ہوگئے ہیں۔

روزانہ بہت سے افراد کرونا وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں سے بعض افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں؛ اس صورتحال میں حکومتیں زیادہ مداخلت کیساتھ نئی پالیسیاں اپناتی ہیں، مختلف ممالک میں شہریوں پر زیادہ پابندیاں عائد ہوتی ہیں، مزید شہر قرنطینہ ہوجاتے ہیں، اسٹاک ایکسچینج کو ایک کے بعد دیگرے فروخت کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کمپنیاں، فیکٹریاں اور دفاتر بند ہونے جار رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی نقل و حمل کا نظام بھی تقریبا روک گیا ہے۔

حالیہ دہائیوں میں بین الاقوامی نظام کو متعدد بحرانوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان میں سے کوئی بھی کرونا وائرس کی طرح تمام ممالک بشمول چین، امریکہ، ایران، اٹلی، اسپین، یورپ، ایشیا اور افریقہ کو اپنی لپٹ میں نہیں لے سکتا۔

اگرچہ سرد جنگ کے دور نے سیکیورٹی کے میدان میں ایک دوئبرو ترتیب پیدا کیا اور نائن الیون کے واقعات نے بین الاقوامی رجحانات اور نئے سکیورٹی بحرانوں میں تبدیلی کا باعث بنی، داعش دہشتگرد گروہ کے عروج نے مشرق وسطی سے لے کر یورپ تک سلامتی کے خدشات کو وسعت دی اور اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں دنیا مالی بحران سے دوچار ہوگئی، لیکن ان بحرانوں میں سے کسی نے عالمی نظم کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا۔

 لیکن آج کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے صحت، سلامتی، معاشی اور معاشرتی شعبوں میں بین الاقوامی ڈھانچے کو بہت سست بنادیا ہے اور اس عالمگیر واقعے کے سامنے بین الاقوامی نظام کی کمزوری کو پہلے سے کہیں زیادہ بے نقاب کردیا ہے۔

 ارنا نمائندے نے  دس ممتاز پروفیسرز برائے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات اور سینئر خارجہ پالیسی تجزیہ کاروں کیساتھ انٹرویو میں ان سے پوچھا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ کس طرح بین الاقوامی رجحانات پر اثر پڑے گا۔

*** سینئر تجزیہ کار برائے خارجہ پالیسی کے امور مجید تفرشی؛

تفرشی کا کہنا ہے کہ جب ہم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بین الاقوامی رجحانات پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اس سے فوری، درمیانے اور طویل مدتی اثرات کیساتھ ساتھ قومی، علاقائی اور بین الاقوامی جہتیں بھی پائی جاتی ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ کوویڈ -19 کے فوری اثرات تو افراد کی صحت، صحت عامہ اور شہریوں کے جانوں کے تحفظ پر توجہ دینی ہے لیکن جب ہم اس فوری اثرات سے گزر جائیں گے اور مثلا آیندہ ایک سال میں قدم اٹھائیں گے تو ہم پر معاشی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی شعبوں میں اس وبائی مرض کے دیرپا اثرات مرتب ہوں گے؛ وہ مسائل جو شائد اب ہمارے لیے اہم نہ ہو لیکن کرونا وائرس کی روک تھام کے بعد وہ بے نقاب ہوجائیں گے۔

 تفرشی کا کہنا ہے کہ ایران اور دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے حکومتوں کے مقابلے میں لوگوں کے مطالبات کو زیادہ سنجیدہ اور شفاف بنا دیا ہے جس سے بدعنوانی اور دھڑے بندی کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس سے رونما ہونے والے بحران کے انتظام میں حائل رکاوٹوں نے اس بات کا باعث بنی ہے کہ بغیر کسی تعاون، شفافیت اور قومی نگرانی کے بحران کا کنٹرول نہ ہوجائے۔

سنیئر سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی ایسا ہی ہے۔ امریکہ میں، نائن الیون سے پہلے دیئے گئے نعروں جس میں امریکہ کی تقدیر کو دنیا سے منقطع کرنے پر زور دیا گیا اور بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ کے "فرسٹ امریکہ" کے نعرے میں مجسم ہوا، کے برعکس اب امریکہ کرونا وائرس سے متاثرہ سب سے زیادہ تر افراد کے نمبر پر ہے جس سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ واشنگٹن اپنی قسمت کو عالمی برادری سے الگ نہیں کرسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ کرونا وائرس نائن الیون سے بہت زیادہ امریکہ اور بین الاقوامی نظام میں تبدیلی کا باعث بنے گا؛ ایک طرف، دنیا اور خاص طور پر بڑی طاقتیں بڑے پیمانے پر فوجی، جنگ اور ایٹمی معاملات میں سرمایہ کاری پر غور کرنے کے بجائے صحت کے انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور نازک معاشیوں کی حالت پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کریں گے۔
تفرشی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا یورپی یونین پر بھی نمایاں اثر پڑ سکتا ہے اور اب سے یورپی باشندے اپنے مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند ہیں اور ان کے درمیان یورپی یونین کے مستقبل کے بارے میں شدید اختلافات ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس اس خطے میں مشترکہ معاشرتی اور معاشی رکاوٹوں کی وجہ سے اتحاد کو مزید متحد کرسکتی ہے اور نازک معیشت والے ملکوں خصوصا اٹلی اور اسپین سے وسوسے اور شکایات یونین کے دوسرے ممبروں سے سنی جاسکتی ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ اگر وہ برطانیہ کی طرح یوروپی یونین سے علیحدہ ہوجاتے تھے تو ان کی پریشانی کم ہوتی اور غریب ممالک کے اخراجات میں انھیں حصہ نہیں لینا پڑتا۔

لیکن یہاں دوسروں کی مدد دینے اور یورپی یونین کے تحفط کرنے کیلئے فرانس اور جرمنی بحثیت یورپی یونین کے قائدیں کا اپناتے ہوئے موقف کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
 
***تہران یورنیورسٹی کے پروفیسر برائے روسی علوم جہانگیر کرمی؛

کرمی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی رجحانات پر کرونا وائرس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں کوویڈ-19 کے بارے میں حکومت کے رد عمل کے نتائج کا انتظار کرنا ہے۔ اس بیماری کا دائرہ کس حد تک پھیلتا ہے اور مختلف ممالک میں اموات کی شرح کیا ہوگی یہ مستقبل کے بین الاقوامی رجحانات کے نتائج کا ایک پیمانہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی اس وبائی مرض کے پھیلاؤ سے چار مہینے گزر چکے ہیں جس سے رونمما ہونے والی صورتحال شرح ذیل ہے:

پہلا؛ شہری سلامتی کے خطرات کی بین الاقوامی نوعیت اور ان کی تباہ کن اثرات کو اقوام عالم کی سلامتی اور صحت پر زیادہ توجہ دینا جو قدرتی طور پر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کو بڑھاتا ہے اور قومی اور بین الاقوامی سلامتی میں سویلین رجحانات پر توجہ دیتا ہے۔

 دوسرا؛ عوام کی حفاظت کیلئے حکومت، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی سرحدوں کے تصور کو تقویت دیں اور لوگوں کی توجہ اپنی صحت و سلامتی کے تحفظ کیلئے حکومتوں کی اہمیت اور ضرورت کی طرف مبذول کروائیں؛ یقینا یہ عالمگیریت کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے لیکن یہ کی صورتحال طویل عرصے تک جاری رہے گی یا عالمگیریت کا عمل کچھ عرصے کے بعد بھی جاری رہے گا یا نہیں تو وہ آنے والے مہینوں تک اس بیماری کی حالت سے وابستہ ہے۔

 تیسرا؛ ریاستوں کے کردار اور قوم پرستی کی اہمیت کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ عالمگیریت کے رجحانات میں کمروزی؛ یقینا مسابقتی جہتوں کے مقابلے میں بین الاقوامی تعاون کو کم کیا جاسکتا ہے اور آنے والے مہینوں کے حالات کے پیش نظر یہ شدت اختیار کرسکتا ہے۔ 

 چوتھا؛ سیاسی، معاشی اور سلامتی کے شعبوں میں بین الاقوامی نظام کے ڈھانچے اور اصولوں میں تبدیلی لانے کا باعث بن جاتا ہے مثلا ممالک کے درمیان تعلقات مسابقتی ہونے کیساتھ ساتھ عالمی معاشی اور تجارتی پیداوار اور تقسیم کے رجحانات میں خود کفیل رجحانات پیدا ہوسکتے ہیں اور اس کے زیادہ دیرپا نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ بنیادی طور پر حالیہ صدیوں میں عالمی نظام، پیداوار اور تجارت کے رجحانات سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

پانچواں؛ بڑی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے کردار کی دوبارہ وضاحت ہوجائے گی؛ خاص طور پر اگر موجودہ صحت کے نتائج ویسے ہی رہیں تو امریکہ کے مقابلے میں چین کی بین الاقوامی پوزیشن میں اضافہ ہوگا۔

*** اقوام متحده، جینوا اور نیویارک میں ایرانی سابق سفارتکار کوروش احمدی؛

 احمدی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس نے دنیا کے بہت سارے ممالک کو معاشی مشکلات کا شکار کیا ہے مارچ کے آخری دنوں کے دوران امریکہ 3۔3 ملین افراد بے روزگار ہوگئے ہیں اور یہ در اصل تمام ممالک میں رونما ہونے والے معاشی بحران کی ایک مثال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2020 اور 2021 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری جو بہت سارے ترقی پذیر ممالک کی معیشت ان سے وابستہ ہے، میں 5 سے 15 فیصد کمی ہوگی اس کے علاوہ 5 ہزار بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنی آمدنی میں 9 فیصد کی کمی کا اندازہ لگایا ہے اور اس بات کی بنا پر 2020 کی منصوبہ بندیوں پر نظر ثانی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی آمدنی میں -16 فیصد کی کمی آئے گی اور کاروں کی صنعت، ہوایی جہاز کی صنعت اور توانائی کے شعبوں کی آمدنی میں بھی بالترتیب -44، -42 اور -13 کی کمی ہوگی۔

احمدی نے کہا کہ اگرچہ بے روزگار ہونے والے افراد، بحران کے اختتام پر اپنے کام پر واپس جائیں گے لیکن معمول کی حالات پر لوٹنے کیساتھ وسیع اور کبھی کبھی تکلیف دہ تنظیم نو بھی ہوگی اور ان عوامل کے نتیجے میں معاون رجحانات میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کرونا بحران کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے، وائرس پر قابو پانے کے بعد وسیع پیمانے پر معاشی اور معاشرتی تنظیم نو کے علاوہ  کچھ ممالک کے سیاسی ڈھانچے جو بحران کے انتظام میں کم کامیاب رہے ہیں، میں تبدیلی آئے گی۔

احمدی نے کہا کہ مزید اہم بات یہ ہے کہ جس طرح طاعون  یا "کالی موت"  نے 1347ء میں تقریبا 50 ملین افراد کی جان لے لی، چرچ کو کمزور کیا اور نشا. ثانیہ کی تشکیل کو تیز کیا اسی طرح کرونا وائرس بھی انسانی معاشروں میں نئے طرز عمل اور اعتقادات کا باعث بن سکتی ہے۔

***بین الاقوامی بحران گروہ کے ڈائریکٹر برائے ایرانی منصوبہ علی واعظ؛

واعظ نے کہا کہ میرے خیال میں کوویڈ-19 کی بیماری اور اس کے پوری دنیا میں تیزی سے پھیل جانے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ عالمگیریت - چاہے ہم اس سے متفق ہوں یا متفق نہ ہو - ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔

لیکن عالمی قیادت کو بڑی خامیوں کا سامنا ہے؛ اقوام متحدہ کی نظام میں خامیوں، سلامتی کونسل میں ڈیڈلاک، عالمی ادارہ صحت کی کمزوری اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں پالیسی کا شکار ہونے کو سدھارنے کی بہت ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لیکن اس بیماری نے کچھ عرصے کیلئے پاپولزم کے خاتمہ کا باعث ہوگا کیونکہ اس نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے ماہرین کی قدر کو بے نقاب کردیا ہے۔

نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر برائے ایران کے ترجمان سید علیرضا میر یوسفی؛

میر یوسفی نے کہا کہ ابھی کرونا وائرس بحران کے خاتمے کے بعد نظام دنیا پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعلق بات نہیں کرسکتے کیونکہ ابھی ہم بحران کے بیج میں ہیں اور صورتحال میں شدت سے تبدیلی ہور رہی ہے اور ہم ایک انتہائی غیر مستحکم صورتحال میں ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ تاہم اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ یہ عالمی بحران اگلے چند مہینوں میں کنٹرول ہوجائے گا اور اس کے معاشی انجام پر توجہ مرکوز کریں گے  تو ہم بحرانی دور کے بعد کے بارے میں قیاس آرائیاں کر سکتے ہیں۔

اس حوالے سے اکثر لکھے گئے آرٹیکلز میں بحران کے بعد قوم پرستی کو مضبوط بنانا، لبرل ازم کو کمزور کرنا، امریکی طاقت کے زوال کو تیز کرنا، نئی عالمی پولرائزیشن اور چین کی پوزیشن کو مزید بڑھانا، دیوالیہ حکومتوں کی تعداد میں اضافہ، تیل اور توانائی کی کم قیمتوں میں اضافہ اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے بڑے نقصانات اور ریموٹ لیبر مارکیٹ اور آن لائن خریداریوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت بڑے معاشی بحرانوں بشمول 1929ء اور 2008ء کے دو بحرانوں کے جائزہ لینے سے ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے 2020 میں رونما ہونے مالی بحران، عالمی طاقتوں کی تبدیلی کا باعث ہوگا۔

اس تبدیلی میں وہ ممالک کا فائدہ ہوگا جو زیادہ لچک، موافقت اور معاشرتی نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور ایک متنوع انسانی اور معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد رکھیں۔

*** ایرانی اسٹریٹجک اسٹڈیز مرکز کے ڈائریکٹر برائے گلوبل اسٹڈیز پروگرام دیاکو حسینی؛

حسینی کا کہنا ہے کہ عالمی پالیسیوں پر کرونا وائرس وبا کے اثرات کے بارے میں پیش گوئی کرنا ابھی جلد بازی ہے۔ ان کے اثرات کی گہرائی کا دارومدار بحران کے دورانیے پر ہے خاص طور پر دنیا کی معروف معیشتوں میں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک اس بیماری نے عالمی معیشت کو کئی کھرب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے اور اس سے نسبتا کساد بازاری کا سبب بنی ہے، لیکن صورتحال اب بھی خراب تر ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس جو کوویڈ-19 کیخلاف عالمی اتحاد کی طرح لگتا ہے ان میں عظیم طاقتوں اور حکومت کے مختلف نظاموں کی حیثیت اور اہلیت کے تعین کیلئے مقابلہ ہے۔

حسینی نے کہا کہ وہ ممالک جو وائرس کو کنٹرول کرنے اور اس پر قابو پانے میں تیز رفتار کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ موثر ممالک کی حیثیت سے بہتر پوزیشن حاصل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں علاج معالجے اور ویکسینوں کی دریافت کا بھی مقابلہ ہے، جس سے ممالک کی حیثیت کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔

 *** واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر شیرین ہانتر؛

ہانتر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سیاسی نظام پر کرونا بحران کے اثرات واضح ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ ان اثرات کی نوعیت کا انحصار اس وقت ممالک کے طرز عمل پر ہے۔

  اگر ممالک خود غرض برتاؤ کرتے ہیں تو خامیوں میں یقینا مزید وسعت آئے گی۔ ابھی تک دوسرے یوروپی ممالک کیجانب سے اٹلی اور اسپین کے لئے خاطر خواہ امداد کی کمی نے یورپی یونین کو کسی حد تک کمزور کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گر ممالک اپنے اتحادیوں پر اعتماد کرنے میں ناکام رہے تو یورپی یونین کی بنیادی منطق کا خاتمہ ہوگا اور یقینا عالمگیریت میں کمی ہوگی اور قوم پرست جذبات میں اضافہ ہوگا۔
.
*** ایران کی شہید بہشتی یونیورسٹی کے پروفیسر حسین والہ؛

والہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس جیسی وبائی مرض کے نتائج کثیر الجہتی ہیں۔ معاشی طور پر اس سے جی ڈی پی میں کمی اور سرکاری قرضوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مالیاتی افراط زر میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر چھ ماہ کے اندر اندر اس مرض کی حتمی علاج کیلئے ادویات یا ویکسین کا تیار نہ ہوجائے تو صنعتی دنیا میں بھی بہت سے متاثرہ ممالک کی معاشی صورتحال بحران کا شکار ہوجائے گی؛ علاج میں تاخیر بحران کی شدت میں مزید اضافہ کا باعث بن جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک عالمی بحران ہے لیکن امریکہ میں وبائی امراض میں شدت اور توسیع کے امکان کی وجہ سے سرکاری اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں بڑے قرضوں میں اضافہ ہوگا۔

والہ نے کہا کہ اس عالمی بحران سرمایہ کی تقسیم کے توازن میں ردوبدل کا باعث بن سکتا ہے، اس کے ساتھ امریکی اسٹاک میں طویل مدت کے لئے کمی ہوتا رہتا ہے اور مشرق میں طویل عرصے تک بڑھتا رہتا ہے اور سرمایے کی منتقلی کے راستے کو بدل دیتا ہے۔

***جنوبی الاباما یونیورسٹی کے پروفیسر برائے سیاسی علوم نادر انتصار؛

انتصار کا کہنا ہے کہ اس وبائی مرض نے عالمی معیشیت پر بُرے اثرات مرتب کرے گا اور کچھ عرصے کیلئے عالمی معیشت میں تبدیلی کا باعث ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ  لیکن ہمیں بین الاقوامی سیاسی نظام کے ڈھانچے میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ 

اگرچہ کوویڈ-19 کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے نقطہ نظر نے یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ وہ طاقتور دیو نہیں ہے جس کے بارے میں کچھ لوگوں نے تصور کیا تھا، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر موجودہ رجحانات کو تبدیل نہیں کرے گا۔

*** اردن میں تعینات ایران کے سابق سفیر نصرت اللہ تاجیک؛

تاجیک کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس پھیلنے کی رفتارسے عالمی مواصلات کی وسعت ظاہر ہوتی ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ممالک جزیرے کے طور پر بین الاقوامی ماحول کا انتظام نہیں کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ممالک قوم پرستی، انتشار اور یکطرفہ پن کی طرف گامزن ہیں، لیکن بین الاقوامی ماحول میں متحرک پیشرفتوں کا سلسلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ ممالک کو بین الاقوامی ترجیحات اور خارجہ پالیسی کی معطلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن وہ تنازعات یا عدم استحکام کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ ممالک پر یکطرفہ حکمرانی نہیں کی جاسکتی ہے اور دنیا کو کثیرالجہتی نظام پر چلنے کی ضرورت ہے۔

تاجیک نے کہا کہ کرونا وائرس کے اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ دنیا کو اس اتفاق رائے کو حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ کثیرالجہتی کے مسائل کو دور کیا جاسکے اور کثیرالجہتی کی بنیاد پر دنیا پر حکمرانی کی جائے۔
**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 12 =