ایران مخالف پابندیوں کو نظر انداز کرنے پر برطانیہ کا محدود رد عمل

لندن، ارنا- برطانیہ میں تعنیات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کی درخواست پر لندن کے رد عمل کو "انتہایی محدود" قرار دے دیا۔

انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں قائم ہاوس آف کلیمز کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کو عوام کی خواست یعنی ایران مخالف پابندیوں کے عدم نفاذ کو پورا کرنے کیلئے راغب کرے۔

ان خیالات کا اظہار "حمید بعیدی نژاد" نے منگل کے روز ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت نے ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے کیلئے برطانیہ کے عوام کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور خاص فوجی ساز و سامان کی برآمدات کے شعبے میں برطانوی پابندیوں کا کرونا وائرس کی روک تھام میں ایرانی کوششوں پر اتنے زیادہ اثرات مرتب نہیں کریں گی لہذا ان کو نظر انداز کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

بعیدی نژاد نے پھر "کیا عوام کو برطانیہ کا یہ جواب صحیح ہے؟ " کا سوال اٹھایا۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ برطانوی عوام کی توقع یہ ہے کہ برطانیہ کی حکومت ایران جوہری معاہدے اور انسان دوستانہ عالمی وعدوں کے فریم ورک کے اندر امریکی ظالمانہ پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران سے تعلقات کیلئے اس ملک کے بینکوں، مالیاتی اور تجارتی تنظیموں کی حمایت کرے۔ 

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے 14 ہزار سے زائد عوام نے کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایران مخالف امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کیلئے ایک طومار پر دستخط کیا۔

سیاسی طریقوں کے مطابق اگر 10 ہزار افراد کسی طومار پر دستخط کرے تو برطانوی حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 4 =