دنیا کو امریکی پابندیوں پر فوری ردعمل کا ظاہر کرنا ہوگا: ایرانی سفیر

اسلام آباد، ارنا – پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے کورونا وائرس اور پابندیوں کے خلاف عالمی برادری کی ہوشیاری پر زور دیا اور کہا ہے کہ دنیا کے راہنماؤں خاص طور پر خطی ممالک کو ، امریکہ کی غندہ گری اور پابندیوں کا فوری جواب دینا ہوگا جو ایرانی قوم کے طبی سامان تک رسائی میں رکاوٹ بنی ہیں۔

یہ بات "سید محمدعلی حسینی" نے جمعرات کے روز اپنے مضمون جو "زبان پاکستان" انگریزی اور اردو زبان میں اخبار میں شائع کیا گیا، میں کہی۔
اس موقع  پر انہوں نے کہا کہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ پھیلنے والے بحران کو روکنے کے لئے بروقت تعاون کرنا عقلی اور فائدہ مند ہے، آج ، دنیا میں کرونا کے شریر مظاہر سے دوچار افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
حسینی نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کے اس آفت سے کسی بھی قسم کے نظرانداز کرنے کے ساتھ ان کے اپنے عوام کو اس وائرس کے شکار ہونے کا باعث بنے گاپھیل جائے گا جسے ان رہنماؤں کو اپنی قوموں کے سامنے جوابدہ بنائے گا۔
حسینی نے اس بات پر زور دیا کہ اس تباہی کی عالمگیریت اور گہرائی کے پیش نظر ، رہنماؤں کی ذمہ داری صرف داخلی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے بیرونی پہلو بھی زیادہ اہم ہوسکتے ہیں وہ محض اپنی سرحدیں بند کرکے اور دوسروں کی تقدیر سے لاتعلق رہ کر اپنی قوموں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے، انہیں یقینی طور پر بڑی کارروائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران کورونا وائرس سے بہت زیادہ متاثر ہے، ایک ایسے ملک میں وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار اور پیمائش جو دنیا کے اعلی ترین معیارات میں سے ایک ہے قابل غور ہے، ہمارے ملک میں میڈیکل ٹیم کی مسلسل کوششوں کے باوجود ، اس میں اب بھی اس وائرس کی وجہ سے موت کی شرح زیادہ ہے۔

 خطے اور دنیا کے رہنماؤں کو امریکی پابندیوں پر "نہیں" کہنے کی ضرورت
ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکی غندہ گری اور پابندیاں ایسی صورتحال کی اصلی وجہ ہے جس کے نتیجے میں ایرانی طبی سہولیات کی تک رسائی کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نہ ہی بین الاقوامی انسانی ہمدردی کا قانون اور نہ ہی عالمی عدالتی حکام کے حالیہ فیصلوں میں کسی بھی وحشیانہ رویے کی توثیق نہیں کی جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس صورتحال کا تسلسل ایک انسانی تباہی کا باعث بنے گا اور عالمی رہنماؤں اور خاص طور پر علاقائی ممالک کے رہنماؤں کے فوری ردعمل کی ضرورت ہوگی، ان غیر منصفانہ اور موقع پرست پابندیوں پر دوسروں کی جانب سے کسی بھی قسم کے غیر عملی یا غیر فعال رد عمل ان رہنماؤں کو مستقبل کے لئے ذمہ دار بنادے گا۔
انہوں نے کہا کہ کوویڈ-19 کو خاتمے کے لئے عالمی اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ کوئی بھی ملک اس صورتحال سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ایران مخالف امریکی پابنیدوں کے خاتمے کے حالیہ مطالبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم  ان کے سیاسی مقابلوں کے بجائے اس صورتحال پر اہمیت دینے کے بیانات کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

پاکستانی حکام کے ایران مخالف پابندیوں پر ردعمل
پاکستانی وزیر اعظم نے منگل کے روز ایران مخالف امریکی پابندیوں کے خاتمے پر زور دیا اور کہا کہ یہ پابندیاں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
پاکستانی سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے امور کی چیف "خوشبخت شجاعت" نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کی وجہ سے کرونا وائرس کی روک تھام کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمی برداری سے ایران کیساتھ کھڑے رہنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی صوبے سند کے گورنر جنرل "عمران اسماعیل" نے ایران میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بہادر اور طاقتور قوم کرونا وائرس کی روک تھام میں کامیاب ہوں گی۔
پاکستانی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان "عایشہ فاروقی" نے کرونا وائرس کیخلاف ایران کی حکمت عملیوں اور کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے ایران کیساتھ  بدستور رابطے میں ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 0 =