18 مارچ، 2020 11:43 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83720589
0 Persons
ریاستوں کی اپنے شہریوں پر عائد ذمہ داریاں

تہران، ارنا- ہر ریاست کی اپنے شہریوں پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور یہ ذمہ داریاں بحران اور ہنگامی صورتحال کے دوران اور بھی اہم ہوجاتی ہیں دریں اثنا ایسا لگتا ہے کہ بحرین کی حکومت اپنے شہریوں پر اپنی ذمہ داریوں کو بھول چکی ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ، ان تعلقات کو ڈرامائی انداز میں تبدیلی لائی ہے جو شہریوں اور ممالک کے باہمی تعلقات اور طرز عمل پر حکمرانی کرتے ہیں اور اس صورتحال میں ہمیں معاشرتی تعلقات میں جذباتی، انسان دوستانہ یا خود غرض سلوک کی ایک وسیع، متنوع اور متضاد برتاؤ دیکھنے میں آئے ہیں۔

اس صورتحال میں کچھ ممالک نے اس مفروضے سے کہ اس کا ملک بھی کرونا وائرس سے متاثر ہوسکتا ہے پوری ذمہ داری کیساتھ  کوویڈ-19 سے متاثرہ ممالک کی مدد کرنے کی کوشش کی۔

 حالانکہ بعض ملکوں کا خیال تھا کہ وہ اگر دوسرے ممالک کیساتھ اپنی سرحدوں کو بند کریں تو کرونا وائرس ان کے ملک میں نہیں پھیل جاتا لیکن اب تک 160 ممالک نے کوویڈ-19 سے متاثر ہوچکے ہیں جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان ممالک کا نقطہ نظر غلط تھا۔

اس بحران کے سامنے ریاستوں کی ذمہ دارانہ اورغیر ذمہ دارانہ رویے کو ان کے اپنے شہریوں کے معاملات پر اپنائے گئے موقف اور بیرون ملک میں مقیم اپنے شہریوں کی وطن واپسی سے جانچ لیا جاسکتا ہے۔

ایک ایسے وقت بہت سے ممالک نے کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں مقبم اپنے شہریوں کو وطن واپس بھیجنے کا بندو بست کیا تا کہ اپنے شہریوں کی صحت کا تحفظ کر سکیں۔

در حقیقت، یہ ان کے شہریوں کے تحفظ اور ان کی علاقائی سرحدوں تک بیماریوں کے عدم پھیلاؤ کے فریم ورک کے تحت کیا گیا تھا۔

دوسری طرف اپنے ہی ملک میں رہنے کا حق ہر شہری کا بنیادی حق ہے جس کا ذکر انسانی حقوق کے کچھ بین الاقوامی معاہدوں میں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومتیں اپنے ہی ملک میں شہریوں کی موجودگی اور رہائش کی فراہمی کے پابند ہیں۔

اسی تناظر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شروعات میں اسلامی جمہوریہ ایران نے چینی حکومت سے تعاون کیساتھ اس ملک کے مختلف شہروں خاص طور شہر ووہان میں مقیم ایرانی شہریوں اور طلباء کو وطن واپس لانے کابند و بست کیا کیونکہ ایران کو خدشہ تھا کہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہوجائیں اور اس طرح ان کی زندگی اور ان کے اہل خانے کی زندگی کو خطرات کا شکار ہو۔

اور یہ ایک ایسے وقت تھا جب کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بہت ساری ایرلائنز نے چین سے اپنی پروازوں کی منسوخ کی اور ایرانی سول ایوی ایشن اٹھارتی کی ہدایت کے مطابق ایران اور چین کے درمیان تمام پروازیں روک دی گئی تھیں تاہم اسلامی جمہوریہ ایران، چین کو چند ہوائی جہاز بھیجتے ہوئے اپنے شہریوں کو وطن واپس لایا۔

یہ اقدام صرف ایران پر منحصر نہیں تھا بلکہ تقریبا اکثر ممالک نے اسی طریقے کو روئے کار لاتے ہوئے جلدی سے اپنے شہریوں کو کرونا وائرس کے متاثرہ ممالک سے وطن واپس لایا۔

ایران میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے بہت سے ممالک باہمی تعاون کے ذریعے اپنے شہریوں کو ایران سے اپنی وطن واپس لایا اور یہ صرف یورپی اور مشرقی ایشیائی ممالک پر منحصر نہیں تھا بلکہ علاقائی ممالک نے بھی ان جیسے طریقہ کار اپنایا۔

مثال کے طور پر کویت خصوصی پروزاوں کے ذریعے ایران میں مقیم اپنے ایک ہزار شہریوں کو وطن واپس لایا اور ساتھ ہی متحدہ عرب امارات اور عمان نے بھی ہوائی جہازوں کے ذریعے اپنے شہریوں کی وطن واپسی کا بند وبست کیا۔

لیکن بہت افسوس کی بات ہے کہ وہ بحرینی شہری جنہوں نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے پہلے ایران کا دورہ کیا تھا، کیساتھ کسی اور طریقے سے سلوک کیا گیا۔

خطے کے دوسرے ممالک کے برعکس، بحرینی حکومت نے حکمرانی کا غیرمعمول طریقہ اپنایا ہے اور ایران میں مقیم بحرینی شہریوں کو ان کی اپنی حکومت نے بے رحمی سے نظرانداز کیا۔

تقریبا 1300 بحرینی مسافر اپنی حکومت کی غفلت اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے مشہد میں رہائش پذیر ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے ان بحرینی شہریوں کو صحت، طبی اور رہائشی خدمات کی فراہمی کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کی تاہم ان میں سے بہت سے افراد کو گھر سے دور رہنے کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اورگذشتہ دو ہفتوں کے دوران بحرین کے پانچ زائرین کا مشہد میں انتقال ہوگئے۔

 بحرینی حکومت ایران کیخلاف الزامات لگانے اور وقت ضائع کرنے سے اس طرح برتاؤ کررہی ہے جو کہ اپنے شہریوں کو ایران میں شہریت کا حقدار نہیں جانتی ہے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری تسلیم کرتی ہے۔ یہ غیر ذمہ دارانہ سلوک شہریوں کے ایک طبقے کیخلاف حکومت کے مذہبی امتیاز کو اکساتا ہے اور اپنے شہریوں پر اپنی ذمہ داریوں میں کمی نہیں لاسکتا۔

تاہم ایران نے عمانی سلطنت کے تعاون کے ذریعے 165 بحرینی مسافروں کو ان کی وطن واپس بھیجا لیکن بحرینی حکومت نے ان مسافروں میں سے 77 افراد کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بہانے سے اور بحرین کیخلاف ایران کے حیاتیاتی حملے جیسے مضحکہ خیز الزامات کے ذریعے ایران سے بحرینی شہریوں کو وطن واپس بھیجنے کا عمل روک دیا۔

لیکن توقع کی جاتی ہے کہ اس صورتحال میں بحرینی حکومت کو بے بنیاد الزام تراشی کے بجائے اس کی اپنے شہریوں پر عائد ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے اور جتنی جلدی ہوسکے ایران میں اپنے دیگر شہریوں کو وطن واپس لائے کیونکہ اگراس کا یہ رویہ جاری رہے تو ایرانی حکومت اور اس کے شہری دونوں کیلئے پریشانی پیدا ہوسکتی ہے اور بحرین کے شہریوں کو مزید پریشانی اور خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 10 =