ظریف کا کرونا وائرس کی روک تھام میں امریکی پابندیوں کیخلاف مقابلہ کرنے پر زور

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کوویڈ-19 کی روک تھام کیلئے امریکی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کیخلاف مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے بدھ کے روز اپنے انڈونیشین ہم منصب کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر دونوں فریقین نے دنیا میں کورنا وائرس کے پھیلاؤ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ظریف نے کوویڈ-19 کی روک تھام کیلئے امریکی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کیخلاف مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دوسالوں کے دوران ایرانی عوام، امریکہ کیجانب سے لگائی گئی انتہائی ظالمانہ اور انسانی سوز پابندیوں کا شکار ہیں اور امریکی دعووں کے برعکس طبی اور ادویات کی سہولیات کی فراہمی میں ان کو بہت بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی حکام نے اس بات دعوی کیا ہے کہ طبی اور ادویات کے شعبے میں ایران کیخلاف پابندیاں نہیں لگائی گئی ہیں جبکہ انہوں نے ادویات کی منتقلی کیلئے بہت بڑی رکاوٹیں حائل کی ہیں جس کی وجہ سے ایرانی عوام کو بہت بڑے نقصان پہنچے گئے ہیں۔

اس حوالے سے ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان سید "عباس موسوی" نے امریکی حکام کے حالیہ بیانات کے رد عمل میں کہا کہ اگر امریکہ کی نیت اچھی ہوتی تو اس کو میڈیا میں شائع نہیں کی تھی اور پروپیگنڈے کے درپے نہیں ہوتا حالانکہ وہ خود سوئس مالیاتی مکینزم کے نفاذ کی راہ میں بھی رکاوٹیں حائل کر رہا ہے۔

موسوی نے مزید کہا کہ امریکہ نے یہ دعوی کیا ہے کہ ادویات اورخوراک کے شعبے میں ایران پر پابندیاں نہیں لگائی گئی ہیں جبکہ اس نے عملی طور پر تمام لین دین کے طریقوں کوبند کیا ہے اور یہ عالمی عدالت انصاف کی رائے کیخلاف ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی محکمہ صحت کے مطابق اب تک ملک کے اندر 17 ہزار 361 افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں جن میں سے 1135 افردا کا انتقال ہوگئے اور 5 ہزار 710 افراد بھی صحت یاب ہوگئے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 5 =