یورپی ایوان تجارت ایران مخالف امریکی پابندیوں پر اپنی سماجی ذمہ داریاں نبھائیں

تہران، ارنا- ایرانی ایوان تجارت کے سربراہ نے یورپی چیمبرآف کامرس کی تنظیم کے سربراہ کے نام میں ایک خط میں ملک میں کرونا وائرس کی روک تھام میں دوائی قلت پر خدشات کا اظہارکرتے ہوئے ان سے ایران مخالف امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کیلئے اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

 تفصیلات کے مطابق "غلامرضا شافعی" نے "کریستوف لیتل" کے نام میں ایک خط میں مزید کہا کہ  ایران میں کوویڈ-19 کے پھیلاؤ نے معصوم انسانوں کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے علاوہ ایران مخالف امریکی پابندیوں نے کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کی کوششوں کو انتہائی نقصان پہنچا ہے۔

شافعی نے کہا کہ یہ پابندیاں انسانوں کے ابتدائی حقوق اور ضروریات کی خلاف ورزی کی کھلی مثال ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی چیمبر آف کامرس نے اپنی سماجی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے ایران مخالف امریکی پابندیوں کے بُرے اثرات بالخصوص ادویات اور طبی سہولیات کے شعبوں میں رونما ہونے والے بحران سے نمٹنے کیلئے ان پانبدیوں کو نظر اندازکرنے کیلئے اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈال دیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دوسالوں کے دوران ایرانی عوام، امریکہ کیجانب سے لگائی گئی انتہائی ظالمانہ اور انسانی سوز پابندیوں کا شکار ہیں اور امریکی دعووں کے برعکس طبی اور ادویات کی سہولیات کی فراہمی میں ان کو بہت بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی حکام نے اس بات دعوی کیا ہے کہ طبی اور ادویات کے شعبے میں ایران کیخلاف پابندیاں نہیں لگائی گئی ہیں جبکہ انہوں نے ادویات کی منتقلی کیلئے بہت بڑی رکاوٹیں حائل کی ہیں جس کی وجہ سے ایرانی عوام کو بہت بڑے نقصان پہنچے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایرانی محکمہ صحت کے مطابق اب تک ملک کے اندر 17 ہزار 361 افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں جن میں سے 1135 افردا کا انتقال ہوگئے اور 5 ہزار 710 افراد بھی صحت یاب ہوگئے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 0 =