امریکہ کیجانب سے ایرانی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی پر اقوام متحدہ کی خاموشی

تہران، ارنا- ایرانی اعلی کونسل برائے انسانی حقوق نے اقوام متحدہ برائے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے کیجانب سے سلامتی کونسل کو دی گئی رپورٹ میں امریکہ کیجانب سے ایرانی عوام کے حقوق کی خلاف وزی پر خاموشی اختیار کرنے کی مذمت کی۔

 ایرانی اعلی کونسل برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ برائے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے نے رواں سال سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ میں صرف ایران مخالف امریکی اقدامات کو نظر انداز کیا ہے جس نے ایرانی قوم کے "ترقی کے حق"، "فلاح و بہبود کے حق"، "پر امن زندگی کے حق"، "صحت کے حق" اور حتی کہ "زندگی کے حق" کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

بیان میں مزید آیا ہے انہوں نے صرف از قبل چنے ہوئے اور چند جزئی کیسز کا ذکر کیا ہے اور گزشتہ سال کے دوران، ایرانی قوم کیخلاف امریکی وحشیانہ کاروائیوں کی لمبی فہرست کو نظرانداز کرنے سمیت ایرانی قوم کیخلاف امریکی ظالمانہ اقدامات کو روکنے کیلئے عملی طور پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔

بیان میں گزشتہ سال کے دوران ایران مخالف امریکی خصمانہ اقدامات کا ذکر کیا ہے جو شرح ذیل ہے:

2019ء کے اپریل مہینے کے دوران ایرانی تیل کے برآمد کرنے والے ممالک کیخلاف پابندیاں لگانا۔

2019ء کے اپریل مہینے کے دوران پاسداران اسلامی انقلاب کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنا۔

2019ء کے مئی مہینے کے دوران ایرانی اسٹیل، آئرن، تانبے اور ایلومینیم صنعتوں پر پابندیاں لگانا۔

2019ء کے جون مہینے کے دوران ایرانی خلیج فارس پیٹروکیمیکل کمپنی اور بیرون ملک میں قائم اس کے 39 ذیلی کمپنیوں کیخلاف پابندیاں لگانا۔

2019ء کے ستمبر مہینے کے دوران ایرانی قومی ترقیاتی فنڈ اور مرکزی بینک کیخلاف پابندیاں لگانا۔

2019ء کے اکتبر مہینے کے دوران بہمن کار فیکٹری اور اس کے ذیلی اداروں کیخلاف پابندیاں لگانا۔

2019ء کے نومبر مہینے کے دوران ایرانی تعمیراتی شعبے کیخلاف پابندیاں لگانا۔

2019ء کے نومبر مہینے کے دوران ایرانی آئرن، گریفائٹ اور کوئلے کی فروخت پر پابندیاں لگانا۔

2019ء کے دسمبر مہینے کے دوران سوئی کوک اور گریفائٹ الیکٹروڈ کی فروخت پر پابندیاں لگانا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں جو ایرانی قوم کیخلاف امریکی حکومت کے خصمانہ اقدمات کا ایک حصہ ہے، نے پوری ایرانی قوم بشمول خواتین اور مرد، جوان اور بوڑھے، بچے اور نوعمر، مسلمان اور عیسائی ، زرتشت اور یہودی برادری کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور تمام ایرانی عوام کو ان کے مذہبی، سیاسی، ثقافتی، نسلی یا مذہبی عقائد سے قطع نظر متاثر اور نقصان پہنچے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 3 =