وہ پہلوانوں جو اپنے ہم وطنوں کو نہیں بھولتے ہیں

تہران، ارنا – ایسے مشکل حالات جو ایرانی عوام کا شکار ہیں کچھ ایرانی پہلوان گیلان اور سیستان و بلوچستان جیسے بعض شہروں میں حاضری کے ساتھ شہریوں کی مدد کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ایرانی قومی فری اسٹائل کشتی ٹیم کے سابق کھیلاڑی 'کمیل قاسمی اور ایک اور ایرانی کھیلاڑی 'رسول خادم' نے صوبے گیلان اور سیستان و بلوچستان کے اسپتالوں کیلیے ماسک، دستانے اور جراثیم کُشوں جیسے طبی سہولیات اور حفظان صحت سے متعلق مصنوعات کو فراہم کیا ہے۔

کچھ دن پہلے ایک اور ایرانی پہلوان حسن رحیمی نے تہران کے محروم علاقوں اور چابہار کے گاوں 'مولا آباد کشاری' کے لوگوں کے لیے اپنی امداد کو بھیجا۔

عالمی کشتی یونین نے اپنے ذاتی پیج میں کمیل قاسمی اور رسول خادم کی تصویروں کی اشاعت کرتے ہوئے کہا کہ ان ایرانی پہلوانوں نے صوبے گیلان کا دورہ کر کے کرونا وائرس کی روک تھام کیلیے طبی سہولیات کی فراہمی کیلیے نرسروں اور ڈاکٹروں کی مدد کی۔ 

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں میں دو ایرانی فٹبال کھیلاڑیوں "سید جلال حسینی" اور "علی کریمی" نے صوبے گیلان میں کرونا وائرس کا شکار افراد کے علاج کیلئے طبی سہولیات اور حفظان صحت سے متعلق مصنوعات کو بھیج دیا۔

 حسینی کی پہلی طبی امدادی کھیپ آج بروز اتوار کو صوبے گیلان کے شہر رشت میں بھیجی گئی۔

سید جلالی حسینی کیجانب سے 2 ہزار پیکچز پر مشتمل دی گئی امداد، انزلی بندرگاہ پر پہنچ گئی ہے جن کو تیار کرنے کے بعد بانٹا جائے گا۔

یہ امداد 4 موٹرائیزڈ اسپرائرز سمیت اعلی حجم کے جراثیم کُشوں، صحت اور خوراک سے متعلق پیکیجز پر مشتمل ہیں جو لوگوں کی ضرورت کے مطابق ان کے درمیان بانٹے جائیں گے۔

 اس سے پہلے بھی ایرانی نامور سابق فٹبالر علی کریمی نے بھی صوبے گیلان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کیلئے حفظان صحت سے متعلق مصنوعات کی امدادی کھیپ بھیج دی۔

 ایرانی محکمہ صحت کے مطابق اب تک ملک کے اندر 16 ہزار 169 افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں جن میں سے 988 افردا کا انتقال ہوگئے اور 5 ہزار 389 افراد بھی صحت یاب ہوگئے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 3 =