ظریف کے مراسلے ایران میں تعینات غیر ملکی نمائندوں کا حوالہ کیا گیا

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ کے مشیروں نے ظریف کیجانب سے اپنے ہم منصبوں کے نام میں لکھے گئے الگ الگ مراسلوں کو ایران میں تعینات غیر ملکی سفیروں اور نمائندوں کا حوالہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق "محمد جواد ظریف" کیجانب سے کرونا وائرس کی روک تھام پر امریکی پابندیوں کے بُرے اثرات سے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہ "انٹونیو گوترش" کے نام میں لکھے گئے خط کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کے مشیروں برائے بین الاقوامی اور علاقائی امور نے ایران میں تعینات غیر ملکی سفیروں اور نمائندوں کیساتھ الگ الگ ملاقاتوں میں کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایرانی اقدامات سے متعلق وضاحتیں پیش کیں۔

انہوں نےمزید کہا کہ امریکی یکطرفہ پابندیوں نے کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے طبی سہولیات اور حفظان صحت کی مصنوعات کی فراہمی میں رکاوٹیں حائل کی ہیں۔  

ایرانی سفارتکاروں نے ان ملاقاتوں میں ظریف کیجانب سے اپنے ہم منصبوں کے نام میں لکھے گئے الگ الگ مراسلوں کو ایران میں تعینات غیر ملکی سفیروں اور نمائندوں کا حوالہ کردیا۔

ان مراسلوں میں کرونا وائرس کی روک تھام پرامریکی ظالمانہ اور یکطرفہ پابندیوں کے بُرے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کیجانب سے ان پابندیوں کے عدم نفاذ اور ان کو نظر انداز کرنے پر زور دیا گیا۔

ظریف نے اقوام متحدہ کے سربراہ سمیت اپنے ہم منصبوں میں لکھے گئے خط۔وط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کرونا وائرس کی روک تھام میں ایرانی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود امریکی پابندیوں نے ادویات، طبی سہولیات اور انسانہ دوستانہ مصنوعات کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالی ہیں اور اس بات نے سے کویڈ-19 کیخلاف مقابلہ کرنے کی ایرانی کوششوں کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ان خطوط میں ایرانی عوام کیخلاف امریکی معاشی دہشتگردی کے جلد از جلد خاتمے کی ضرورت پر زو دیتے ہوئے اقوام متحدہ کیجانب سے ایران مخالف امریکی پالیسی کو روکنے میں ایرانی حکومت اور عوام کا ساتھ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =