ایرانی ریڈ کریسنٹ کمیٹی کے سربراہ نے امریکی ظالمانہ پابندیوں پر روشنی ڈالی

تہران، ارنا- ایرانی ریڈ کریسنٹ کے ڈائریکٹر جنرل نے کمبریج یورنیورسٹی کے ایک جریدے میں لکھے گئے ایک کالم میں گزشتہ سال کے دوران، ایران میں سیلاب حادثے میں انسانہ دوستانہ اقدامات پر امریکی ظالمانہ پابندیوں کے بُرے اثرات پر روشنی ڈالی۔

تفصیلات کے مطابق "محمود رضا پیروی" کے کالم کو کمبریج یورنیورسٹی کے Prehospital and disaster medicine جریدے میں شائع کیا گیا۔

انہوں نے اس کالم میں کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مارچ مہینے کے دوران، ایران کے شمالی، مرکزی اور مغربی صوبوں میں موسلادھار بارشیں ہوئی۔

پیروی نے کہا کہ ان شدید بارشوں نے ایران کے 25 صوبوں پر بُرے اثرات مرتب کیے لیکن ان میں سے سب سے زیادہ صوبوں گلستان، خوزستان اور لرستان کو نقصان پہنچا اور مذکورہ صوبوں کے بنیادی ڈھانچوں پر نقصان پہنچنے کے علاوہ قریب 20 لاکھ افراد کی زندگی پر بُرے اثرات مرتب کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس بحران سے نمٹنے کیلئے ایران مخالف امریکی پابندیوں کی وجہ سے یورپی اور ایشیائی ممالک سے بھی ضروری مصنوعات اور امدادی سامان خریدنے میں بہت بڑا مشکلات کا شکار ہوا۔

پیروی نے کہا کہ دیگر ممالک کے غیر مالیاتی امداد بغیر کسی رکاوٹ کے ایرانی ریڈ کریسنٹ کمیٹی کا حوالہ کیا گیا لیکن امدادی ہلی کاپٹر اور ان جیسے ساز وسامان بشمول لایف بوٹس جو فوجی استعمال کیلئے تھے، کو ایران بھیجنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ لیکن پابندیوں نے مالیاتی امداد کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹیں حائل کی تھیں؛ مثال کے طور پر عالمی ریڈ کراس کمیٹی، انسان دوستانہ تنظیموں اور بیرون ملک میں مقیم اووسیز ایرانیوں سمیت دیگر افراد کی مالیاتی امداد تقریبا غیر ممکن تھی۔

 پیروی نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، ادویات، طبی ساز و سامان اور مسافر بر طیاروں کے پرزوں کو پابندیوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے لیکن ان جیسے سامان کو خریدنے اور ان کو ایران بھیجنے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹیں حائل تھیں۔

انہوں نے سیلاب متاثرہ افراد کی مالیاتی اور غیر مالیاتی امداد پر امریکی ظالمانہ اور انسانیت سوز پابندیوں پر تبصرہ کرتے ہوئےکہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ بین الاقوامی برادری، امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے اس کی پالیسی میں تبدیلی لانے کا باعث بنے تا قدرتی آفات کے موقع پر متاثرہ افراد کی امداد کیلئے ان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہوجائے اور ساتھ ہی ان کی عزت اور کرامت کا تحفظ کیا جائے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 0 =