امریکی پابندیوں نے ادویات اور طبی سامان کی منتقلی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی ہیں: ایرانی مندوب

لندن، ارنا- ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے امریکی ظالمانہ اور یکطرفہ پابندیوں کی وجہ سے ایران پر پہنچے گئے نقصانات پر تبصرہ کرتے ہوئے جوہری معاہدے کے دیگر فریقین اور بین الاقوامی برداری سے اس معاہدے میں توازن لانے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

ان خیالات کا اظہار "کاظم غریب آبادی" نے آج بروز بدھ کو ویانا میں جوہری معاہدے سے متعلق منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس اجلاس کے دوران جوہری معاہدے سے متعلق ایران کی کارکردگی کے حوالے سے عالمی جوہری توانائی کی تازہ ترین رپورٹ سے متعلق وضاحتیں پیش کیں۔

غریب آبادی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، جوہری معاہدے کی شقوں نمبر 26 اور 36 کے مطابق جوہری وعدوں میں کمی لایا لیکن اگر اب معاہدے کے دیگر فریقین اپنے کیے گئے وعدوں کا پوارا نفاذ کریں تو ہم پچھلے کی صورتحال پر واپس آنے کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا وہ پابندیوں کی وجہ سے ایران پر پہنچے گئے نقصانات کا ازالہ کرسکتے ہیں؟ اور کیا وہ امریکی حکومت کی غیر قانونی کاروائیوں کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں ایران کے اربوں یورو کے اخراجات اور نقصانات کا ازلہ کرنے کیلئے تیار ہیں؟

غریب آبادی نے مزید کہا کہ ایران خود بھی عدم پھیلاؤ کے نام نہاد مدافع ممالک کے ذریعہ فراہم کردہ کیمیائی ہتھیاروں کا شکار ہے جنہوں نے ان ہتھیاروں کو صدام کی حکومت کیلئے فراہم کیا اور ان کی وجہ سے ہزاروں ایرانی شہید اور ایک لاکھ سے زیادہ جانباز ہوگئے اور کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات کی وجہ سے آئے دن ان میں سے کچھ کی شہادت کی خبر سنتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ اس نے ادویات اور طبی ساز وسامان کے شعبے پر ایران کیخلاف پابندیاں نہیں لگائی ہیں لیکن اس نے ایک طرف ادویات اور طبی سہولیات کی منتقلی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے اور دوسری طرف دواسازی کمپینوں کی دھمکی دینے کے ذریعےعملی طور پر ادویات اور طبی سہولیات کی منتقلی کو ناممکن بنادیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 12 =