عالمی ادارے صحت کی ایران کے کورونا وائرس کیخلاف اقدامات کی تعریف

تہران، ارنا – عالمی ادارے صحت کے نمائندوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جامعات اور دارالحکومت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کے کنٹرول کے لئے کئے گئے اقدامات کی تعریف کی۔

مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں ہنگامی صورتحال کے لئے ڈبلیو ایچ او کے علاقائی ڈائریکٹر رچرڈ برنان اور ایران میں تعینات اس ادارے کے نمائندہ کریسٹف ہملمن نے ایرانی دارالحکومت تہران میں بعض طبی مراکزوں کا دورہ کرکے کورونا وائرس کے خلاف کئے گئے اقدامات کی تعریف کی کیونکہ ایران 1 سے 2 ہفتوں میں ان حالات سے نمٹنے کے لئے ضروری تیاری فراہم کرسکا۔
ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے اسکریننگ اور شناختی نظام، مریضوں کو الگ کرنا اور ٹریجنگ ، ماہرین صحت کے ذریعہ صحت یاب ہونے والے یا مشتبہ مریضوں کے صحت کی صورتحال کا حوالہ اور ان کا پتہ لگانے کو بہت دلچسپ قرار دے دیتے ہوئے فون کے ذریعہ مریض کے صحت کی حیثیت کی نگرانی ، یا یہاں تک کہ اس وبائی صورتحال میں صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد کی موجودگی ضرورت کو بہت اہم بنا دیا ہے۔
اس تنظیم کے نمائندوں نے اس وائرس سے نمٹنے کے لئے ایک تنظیم کے تحت کام کرنے والے مختلف اعضاء اور تنظیموں کے اتحاد کی تعریف کی۔
اسپتال ، ریزورٹس یا گھروں میں مختلف سطحوں پر مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے متعدد اسٹیشنوں کی منصوبہ بندی اور شیڈولنگ بھی ان مندوبین کے لئے ایک دلچسپ اقدام تھا۔
یاد رہے کہ اب تک مجموعی طور پرایران کے اندر 8042 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں جن میں سے 293 افراد جاں بحق اور 2371 افراد بھی صحت یاب ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، چین کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر ووہان میں دسمبر 2019 کے آخر میں نئے کورونا وائرس (2019-nCoV) کا وباء ریکارڈ کیا گیا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسے بین الاقوامی تناسب کی ہنگامی صورتحال کے طور پر تسلیم کیا ، اور اسے متعدد مقامات پر مشتمل ایک وبا کے طور پر بیان کیا ہے۔
چین کے باہر ، ایران سمیت 115 ممالک میں انفیکشن کا پتہ چلا۔
تفصیلات کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر مجموعی طور پر 7161 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں جن میں سے 237 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اور 2394 افراد کا علاج بھی ہوچکے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 3 =