ایران یوریشیا کے تجارتی تعلقات کی شرح ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ گئی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران نے رواں سال کے گزشتہ 11 مہینوں کے دوران ایک ارب 244 ملین ڈالر کی مالیت پر مشتمل مصنوعات کو یوریشین یونین کے رکن ممالک کو برآمد کیا ہے جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 105 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ایرانی کسٹم ادارہ کے ترجمان "سید روح اللہ لطیفی" نے منگل کے روز یوریشین یونین سے تجارت کی اہمیت سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوریشیائی ممالک کے پاس بہت نمایاں معاشی اشارے بشمول دنیا میں تیل نکالنے کی پہلی پوزیشن، گیس کی پیداوار کی پہلی پوزیشن اور توانائی کی پیداوار کی چوتھی پوزیشن کا نام لیا جاسکتا ہے۔

لطیفی نے کہا کہ اس بڑے مجموعے کیساتھ ایران کی خارجہ تجارت انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوریشین یونین کے تین ممبر ممالک بشمول روس، قازقستان اور آرمینیا، ایران کے ہمسایہ ممالک ہیں جن میں سے روس اور قازقستان سے ایران کی سمندری سرحدیں ہیں اور آرمینیا کیساتھ ایران کی زمینی سرحدیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان تین ممالک سے سالانہ 400 ارب ڈالر کی مالیت پر مشتمل مصنوعات کی ایران میں درآمدات ہوجاتی ہیں جن کا سب سے زیادہ حصہ روس سے ہے۔

لطیفی نے یوریشین یونین کے اہم شراکت داروں سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یوریشیا کو برآمد کرنے والے اہم ممالک میں چین، جرمنی، امریکہ، فرانس، اٹلی اور ترکی شامل ہیں، نیز یوریشیا سے درآمد کرنے والے بڑے ممالک فی الحال نیدرلینڈز، چین، جرمنی، ترکی، اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال کے گزشتہ 11 مہینوں کے دوران ایران اور یوریشین یونین ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی مجموعی شرح 2 ارب 448 ملین ڈالر کی ہے جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں قابل قدر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور یوریشین یونین کے درمیان آزاد تجارت کے عبوری معاہدے کا 27 اکتوبر سے آغاز کیا گیا۔

اس معاہدے کے نفاذ کے ایک سال بعد، ایران اور یوریشن رکن ممالک کیساتھ آزادانہ تجارت کے انتظامات کیے جائیں گے۔

اس عبوری تجارتی معاہدے میں 862 کی مختلف قسم مصنوعات شامل ہیں جن میں سے 360 قسم کی مصنوعات کو ایران سے یوریشن یونین میں برآمدات کی جاتی ہے اور باقی 502 قسم کی مصنوعات کو یوریشین یونین سے ایران میں برآمد ہوجائے گی۔

فی الحال، روس، بیلاروس، قازقستان، آرمینیا اور کرغزستان یوریشین یونین کے پانچ ممبر ہیں لیکن اس یونین نے 40 سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کیلئے اپنی آمادگی کا اظہار کرلیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 13 =