ایرانی مندوب کی جوہری تکنیکی مسائل کو پالیسی بنانے کی تنقید

لندن، ارنا - ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے جوبی شہر بوشہر میں واقع جوہری بجلی پاورپلانٹ کے خلاف گمراہ کن بیانات پر تنقید کی۔

یہ بات "کاظم غریب آبادی" نے پیر کے روز عالمی ایٹمی ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں شہر بوشہر میں جوہری بجلی پاورپلانٹ کی سیکوریٹی صورتحال کی وضحات کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس پاورپلانٹ محفوظ ترین ہائی پریشر ری ایکٹرز استعمال کیے جاتے ہیں جس میں روسی اور جرمنی کے منصوبوں سے استعمال کی وجہ سے ، ان کی حفاظت دنیا میں بہت اہم ہے۔
غریب آبادی نے کہا کہ جوہری حفاظت کے معیار کے نقطہ نظر سے ، بوشہر پاور پلانٹ میں نگرانی کے تین درجے ہیں: پہلا ، براہ راست نگرانی مرکزی ٹھیکیدار کے ذریعہ کی جاتی ہے اور اس میں اپنی نوعیت کی حفاظتی ضروریات کی اعلی سطح پر مشتمل ہے۔ دوسرا ایران نیوکلیئر سیفٹی مانیٹرنگ آرگنائزیشن کی نگرانی اور تیسرا وسیع پیمانے پر تکنیکی تعاون منصوبوں کے فریم ورک میں عالمی ایٹمی ادارے کے تکنیکی تعاون کا استعمال "۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا سیکیورٹی نظام ، آئی اے ای اے اور یورپی یونین کے تکنیکی تعاون سے جوہری تحفظ کے ضوابط کو بھی اپ ڈیٹ کر رہا ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ عالمی جوہری ادارے نے 2018 کو بوشہر پاور پلانٹ میں ایک اطمینان بخش "آپریشنل سیفٹی ریویو" مشن بھی انجام دیا جس نے کئی شعبوں میں اس پاور پلانٹ کی عمدہ کارکردگی کی نشاندہی کی۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 2 =