9 مارچ، 2020 10:52 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83707915
0 Persons
امریکی طبی دہشتگردی؛ قانون اور اخلاق کی پامالی

تہران، ارنا- امریکہ کیجانب سے ایرانی عوام کیلئے طبی سہولیات اور ادویات کی منتقلی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کا اقدام خود طبی دہشتگردی کی کھلی مثال اور قانون و اخلاق کی پامالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت جس نے حالیہ دو سالوں کے دوران ایرانی عوام کیخلاف سخت پابندیاں عائد کیں ہیں اور معاشی دہشتگردی کے ذریعے ایرانی قوم کیخلاف سنگین جرائم کر رہے ہیں، اب دہرا موقف اپناتے ہوئے ایران میں کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ادویات بھیجنے کی تجویز دی ہے جو دکھاوے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔

اب حالیہ صورتحال میں کرونا وائرس بہت بڑی تیزی سے مختلف ملکوں میں پھیل رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ 100 سے زائد ممالک اسی وائرس سے متاثر ہوگئے ہیں۔

مختلف ممالک، کرونا وائرس سے رونما ہونے والے بحران پر قابوپانے کیلئے مختلف طریقے روئے لائے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ کویڈ -19 سے موثر اور مضبوط طریقوں کے ذریعے نمٹنے کیلئے بنیادی ڈھانچے اور مالی وسائل سمیت ادویات کے ذخائر کی ضرورت ہے۔

گزشتہ دوسالوں کے دوران ایرانی عوام، امریکہ کیجانب سے لگائی گئی انتہائی ظالمانہ اور انسانی سوز پابندیوں کا شکار ہیں اور امریکی دعووں کے برعکس طبی اور ادویات کی سہولیات کی فراہمی میں ان کو بہت بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی حکام نے اس بات دعوی کیا ہے کہ طبی اور ادویات کے شعبے میں ایران کیخلاف پابندیاں نہیں لگائی گئی ہیں جبکہ انہوں نے ادویات کی منتقلی کیلئے بہت بڑی رکاوٹیں حائل کی ہیں جس کی وجہ سے ایرانی عوام کو بہت بڑے نقصان پہنچے گئے ہیں۔

اسی لیے ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ امریکی مظالم کے سامنے اپنی خاموشی توڑ کر اس کی طبی دہشتگردی کے سامنے موقف اپنائے۔

انہوں نے امریکی معاشی دہشتگردی سے متعلق کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی طور پر ایران مخالف امریکی غیرقانونی پابندیوں کو سخت کردیا ہے جس کا مقصد کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایران کے وسائل کا ختم کرنا ہے جبکہ ہمارے شہری اس بیماری سے دم توڑ رہے ہیں۔

ظریف نے مزید کہا کہ دنیا، اس سے اور زیادہ امریکی مظالم کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتی اور یہ ایک ایسا وقت ہے جب امریکی طبی دہشتگردی امریکی معیشتی دہشتگردی کی جگہ لے رہی ہے۔

 اب ایران میں کورنا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ایرانی عوام کو حفاظتی تدابیر اتخاذ کرنے کیلئے طبی مصنوعات کی ضرورت ہے جو امریکی پابندیوں کی وجہ سے ان کی فراہمی بہت مشکل ہوگئی ہے اور یہ بات انسانوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

اگرچہ امریکہ نے دعوی کیا ہے کہ وہ انساندوستانہ مصنوعات جیسے ادویات اور طبی ساز وسامان کو پابندیوں سے استثنی دی ہے جو کہ صحیح نہیں ہے اور حتی اگر اس کا یہ دعوی بھی صحیح ہو تو  ایران مخالف امریکی پابندیوں سے عالمی بینک کی خوف کی وجہ سے ایران کو ادویات کی فراہمی خاص طور میستھ نیا گریوس کا شکار بیماروں کی ادویات کی فراہمی کیلئے بہت سارے مشکلات کا سامنا ہے۔

 ایسی صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پھر ایران کے سامنے دہرا موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ہم کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایران کی مدد کرسکتے ہیں بس اتنا کافی ہے کہ ایرانی حکام ہم سے مطالبہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس دنیا کےسب سے برتر ماہرین ہیں، ہم کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایران کو مدد کرنے پر دلچسبی رکھتے ہیں لیکن اس بات کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہم سے مطالبہ کریں۔

امریکی صدر کے اس بیانات کے رد عمل میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ بہت بڑی افسوس کی بات ہے کہ وہ جو دو سال کیلئے ایرانی عوام کیخلاف سخت سے سخت پابندیاں عائد کی ہیں وہ اب روپ بدل کر ایرانی قوم کو مدد دینے کی تجویز دیتے ہیں؛ اگر آپ کی مدد دینے کی تجویز واقعی ہے تو سب سے پہلے طبی اور ادویات کے شعبے میں ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھائیں؛ یہ سب سے پہلا اقدام ہے۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ وہ اس بات کا اعتراف کریں کہ انہوں نے ایرانی عوام کے حق میں غلطی کی ہے اور ان سے بھی معافی مانگ لیں اور کہہ دیں کہ ہمارا سب سے پہلا اقدام یہ ہے کہ ادویات کی خریداری اور ان کی منتقلی کیلئے بینکوں کی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کریں گے اور ساتھ ہی خوارک کی فراہمی کیلئے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو اٹھائیں گے لیکن ہماری قوم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ جھوٹ کہہ رہے ہیں اور حقیقت کو چھپاتے ہیں۔

 اس کے علاوہ ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان سید "عباس موسوی" نے بھی امریکی حکام کے حالیہ بیانات کے رد عمل میں کہا کہ اگر امریکہ کی نیت اچھی ہوتی تو اس کو میڈیا میں شائع نہیں کی تھی اور پروپیگنڈے کے درپے نہیں ہوتا حالانکہ وہ خود سوئس مالیاتی مکینزم کے نفاذ کی راہ میں بھی رکاوٹیں حائل کر رہا ہے۔

موسوی نے مزید کہا کہ امریکہ نے یہ دعوی کیا ہے کہ ادویات اورخوراک کے شعبے میں ایران پر پابندیاں نہیں لگائی گئی ہیں جبکہ اس نے عملی طور پر تمام لین دین کے طریقوں کوبند کیا ہے اور یہ عالمی عدالت انصاف کی رائے کیخلاف ہے۔

اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خصوص مشیر "حسن امیر عبدالہیان" نے بھی ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ، کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے خریدے گئے طبی ساز و سامان اور ادویات کی منتقلی کی اجازت نہیں دیتی ہے اور امریکی حکام کھلی جھوٹ کہتے ہیں انہوں نے ایرانی پابندیوں کو ملتوی نہیں کی ہے بلکہ ایرانی عوام کا نشانہ بنایا ہے۔

عالمی برادری کی لاپروائی کے سائے میں قانون اور اخلاق کی پامالی

حقیقت یہ ہے کہ ایرانی عوام کے سامنے امریکی موقف اور ادویات کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنا، قانونی طور پر انسانیت کیخلاف سنگین جرائم میں شامل ہوسکتا ہے لیکن دنیا میں نافذ بین الاقوامی نظام کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ در اصل بین الاقوامی حقوق بھی صرف دنیا کی طاقتوں کی حمایت سے نفاذ ہوجاتا ہے۔

 حتی کہ اگر عالمی طاقتیں چاہیں تو وہ چھوٹے سے بہانہ بنا کے اپنی خواہشات کے حصول کے لئے بین الاقوامی تنظیموں کو متحرک کرسکتے ہیں اور اپنے ارادوں کو قانونی حیثیت دے سکتے ہیں۔

لہذا اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ بین الاقوامی تنظیمیں اور عالمی برادری، قانون اور اخلاق کی کھلی پامالی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے سامنے موثر اقدمات اٹھائیں لیکن توقع کی جاتی ہے کہ عالمی رائے اپنی طاقت کے بھروسے پر ان جیسے معاندانہ اور مجرمانہ اقدمات کے سامنے خاموش نہ رہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 8 =