برطانیہ، برگزیٹ کے بعد ایران سے تعلقات مضبوط کرنے کیلئے پُرعزم

لندن، ارنا - برطانوی وزیراعظم کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ برگزیٹ معاملے کے بعد برطانوی حکومت، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لئے کام کرے گی.

برطانوی ترجمان ، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کے دوران کے برطانیہ اور اسلامی جمہوریہ کے مابین تعلقات کے مستقبل، جانسن کی حکومت کے مواقف، 2015 میں دستخط کرنے والے ایرانی جوہری معاہدہ، ٹرمپ کے معاہدے اور ایران کے سامنے واشنگٹن اور لندن کی خارجہ پالیسی کے اختلافات کی وضاحت کی۔
انہوں نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے  فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کے ذریعہ ایران کو طبی امداد بھیجنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے مقابلے کرنے کے لئے ہمارے تعاون سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ان تمام معاملات میں بات چیت کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لندن کی حکومت ایران کے جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی اپنی ذمہ داریوں کو کم کرنے کے حالیہ فیصلے سے ہمارے ملک میں سخت تشویش پیدا کردی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف پابندیاں اٹھانے سے امریکہ کو راضی کرنے کی کوشش کی ہے اور ہم ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت ، اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ، فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کے ذریعہ فروغ پائے جانے والے انسٹیکس نامی میکنزم کو فعال کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، تاکہ ایران سے مالی لین دین پر کچھ پابندیوں کو ختم کیا جاسکے اور تجارتی تعلقات معمول پر آسکیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 1 =