کرونا وائرس کا ایرانی تیل کی پیداوار پر کوئی اثر نہیں پڑا

لندن، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر تیل نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ملک میں تیل کی پیداوار پر کوئی اثر نہیں پڑا اور ہماری تیل کی پیداوار گزشتہ جیسا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "بیژن نامدار زنگنہ" جو اوپیک کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے ویانا کے دورے پر ہیں، نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ملک بھر کے تمام شہروں سمیت نقل و حمل کے شعبوں میں توانائی کی کھپت میں کمی نظر آئی ہے۔

 زنگنہ نے اس بات پر زور دیا کہ اب دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے تیل کی عالمی مانگ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے لہذا ضروری ہے کہ اوپبک اور غیر اوپیک اراکین، تیل کی عالمی مارکیٹ میں توازان برقرار رکھنے کی کسی بھی کوشش سے دریغ نہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اوپیک اور غیر اوپیک کی فنی کمیٹی کی تجویز کے مطابق تیل کی روزانہ پیداوار میں 500 بیرل کی کمی ہونی چاہیے۔

زنگنہ نے تیل کی روزانہ پیداوار میں 500 بیرل سے زائد کی کمی سے متعلق ایران کے موقف کے بارے میں کہا کہ یہاں اعداد و شمار کی بات نہیں بلکہ پالیسی کی بات ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر تیل آج بروز بدھ کو اوپیک کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے ویانا پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق تیل برآمد کرنے والے ممالک کی عالمی تنظیم اوپیک کے 178 ویں اجلاس کا وزرا کی سطح پر 5 اور 6 مارچ کو ویانا میں انعقاد ہوگا۔

یہ اجلاس "اویپک پلاس" کے عنوان کے تحت انعقاد کیا جائے گا جس میں اوپیک اور غیر اوپیک ممبر شریک ہوں گے۔

منعقدہ اس اجلاس میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کے وزرا، کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے تیل کی پیداوار میں کمی کا جائزہ لیں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے تیل کی عالمی مانگ میں کمی نظر آئی ہے۔

واضح رہے تیل برآمد کرنے والے ممالک بشمول چین کیجانب سے تیل کی بہت کم خریداری کی جا رہی ہے اور اس بات کی وجہ یہ ہے ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بعض مینوفیکچرینک صنعتوں کی بندش ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ کرونا وائرس کے منفی اثرات کے تحت عالمی سطح پر نقل و حمل میں کمی نظر آئی ہے اوراس بات کی بنا پر تیل کی عالمی مانگ میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اوپیک اراکین نے گزشتہ سال کے دسمبر مہینے کے دوران تیل کی پیداور میں کمی کا فیصلہ کیا تھا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 2 =