میرجاوہ بارڈرز میں پاکستانی زائرین کی آمد و رفت بحال کردی گئی

زاہدان، ارنا- پاکستان سے ملحقہ ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کے نقل و حمل ادارہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ میرجاوہ بارڈزر میں مشکلات کا شکار پاکستانی زائرین کے مسائل حل ہوگئے ہیں اور وہ اپنی واطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "تیمور باقری" نے ہفتہ کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان پاکستانی شہریوں نے ایرانی زیارتی مقامات کی سیر کرنے کیلئے ایران کا دورہ کیا تھا اور ایران میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے اپنی وطن میں واپس جانے کیلئے مشکلات کا شکار ہوگئے تھے کیونکہ حکومت پاکستان نے ان کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے سیستان و بلوچستان کے حکام اورعہدیداروں نے اسی مسئلے کا تعاقب کیا اور وہ پاکستانی شہری جو ایک ہفتے کیلئے میر جاوہ بارڈرز میں پھنسے گئے تھے وہ ابھی اپنی وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔

باقری نے مزید کہا کہ پاکستان میں سامان لے جانے والے ایرانی ڈرائیور بھی صحت کی ضروری جانچ پڑتال کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میلک سرحدی گیٹ میں ٹرکوں سمیت افغان شہریوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ میر جاوہ باجوہ بارڈرز زاہدان شہر کے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں اور پاکستانی زائرین اسی سرحدی کے ذریعے ایران میں داخل ہوجاتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان قریب 900 کلومیٹر کی زمینی سرحدیں پھیلی ہوئی ہیں اور ساتھ ہی ایران اور افغانستان کے درمیان بھی 300 کلومیٹر مشترکہ زمینی سرحدیں ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 10 =