پابندیاں ایرانی ترقی کے حق کو چھیننے میں امریکی ناکامی کا ثبوت ہے

 تہران، ارنا- ایرانی عدلیہ کے نائب سربراہ نے اقوام متحدہ کے اعلی کمشنر برائے انسانی حقوق سے ایک ملاقات میں کہا ہے کہ ایران کیخلاف امریکی پابندیوں سے ایرانی قوم کی ترقی کے حق کو چھینے کیلئے امریکی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم کی ترقی کیخلاف امریکی حکام کی مخالفت اس بات کا باعث ہوا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ ایرانی قوم کو حساس ٹیکنالوجی کی رسائی تک روکیں اور عملی طور پو ان کو ترقی کے حق سے محروم کر دیں۔

"باقری کنی" نے "میشل باچلت" کیساتھ ملاقات میں مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیاں انسانی حقوق کے تحفظ اور ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ پر مبنی ہیں۔

باقری کنی نے کہا کہ وہ یورپی حکومت جو انسانی حقوق کونسل میں ایران کیخلاف انسانی حقوق سے متعلق قرارداد کی حمایت کرتی ہے ایک طرف یمنی بچوں کے قتل میں سعودی عرب کی مدد کررہی ہے اور دوسری طرف ایران کو ادویات کی برآمدات روکنے کے ذریعے معصوم ایرانی بچوں کے قتل میں امریکی جرائم میں برابر کے شریک ہے۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے اعلی کمشنر نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کو غیرقانونی اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے رپورٹ پیش کی ہے اور موقف بھی اخیتار کیا ہے۔

 انہوں نے امریکی ہاتھوں قدس فورس کے جنرل قسام سلیمانی کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کو سیاسی رنگ دینا ایک کڑوی حقیت ہے جس کو ہم چھپا نہیں سکتے۔

انسانی حقوق کے اداروں کو خطے میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے محافظ کے خون کا دعوی کرنا ہوگا

باقری کنی نے اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کی خاتون سربراہ "الیزابت تیچی فیسلبرگر" سے بھی ملاقات کی۔

انہوں نے اس ملاقات میں کہا جنرل سلیمانی کی شہادت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جرائم نے نہ صرف ایرانی قوم کو ان کے سب سے بہادر کمانڈر سے محروم کو بلکہ خطے میں اقوام عالم کے حقوق کے سب سے بڑے محافظ کو بھی نشانہ بنایا۔

کنی نے کہا کہ لہذا بین الاقوامی تنظیموں کو جنرل سلیمانی کے خون کا دعوی کرنے والے اولین تنظیموں میں شامل ہونا چاہیے اور امریکی اس جرم کو سزا دینی چاہیے۔

ایرانی عدلیہ کے نائب سربراہ نے ایران مخالف امریکی پابنیدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی تنظیموں کو انسانیت کیخلاف امریکی جرائم کیخلاف خاموشی اخیتار کرنے کیساتھ اسی قانونی صورت اخیتار کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

اس موقع پر الیزابت تیچی فیسلبرگر اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے کردار اور اس کی پوزیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے مابین تعامل انسانی حقوق کونسل کے قیام کا ایک بنیادی مقصد ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 8 =