روس کا جوہری معاہدے کے اجلاس کے انعقاد سے کشیدگی کی کمی کیلئے پُر امید

ماسکو، ارنا- روسی وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کردیا کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے بعد اس بین لاقوامی معاہدے سے متعلق رونما ہونے والی کشیدگی میں کمی آئے گی۔

ان خیالات کا اظہار "سرگئی لاوروف" نے آج بروز منگل کو جینوا میں اسلحے سے پاک کرنے سے متعلق منعقدہ کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، جوہری معاہدے سے متعلق اپنے قانونی وعدوں پر عمل کرنے کی وجہ سے امریکی خرابکارانہ اقدمات اور یورپی فریقین کی لاپروائی کا جوابندہ ہونے پر مجبور ہوگیا ہے۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اگلا اجلاس 26 فروری کو ویانا میں منعقد ہوگا جس میں اس بین الاقوامی معاہدے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس اجلاس میں جوہری معاہدے کے ارکین سمیت یورپی یونین کے نمائندے بھی حصہ لیں گے۔

رپورٹ کے مطابق یہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا 15 ویں اجلاس ہے جو ایران، ہالینڈ اور آسٹریا کے وزرائے خارجہ کے حالیہ ملاقات کے بعد انعقاد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ 8 مئی کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ جوہری معاہدے کے بعض احکامات پر عمل نہیں کرے گا اور معاہدے کے فریقین کو بھی 60 دن کا الٹی میٹم دیا تا کہ وہ تیل اور بینکاری شعبوں کے علاوہ دیگر امور سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کریں۔

جوہری معاہدے سے امریکہ کی غیرقانونی علیحدگی سے ایک سال گزر گیا اور اسی دوران ایران نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر فریقین کو اس نقصان کا ازالہ کرنے کا کافی وقت دیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 8 =