یورپی یونین جوہری معاہدے پر صرف بات کرتی ہے: ایرانی اسپیکر

تہران، ارنا – ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے یورپی یونین گزشتہ سال سے جوہری معاہدے پر عملی اقدامات کے بجائے صرف بات کرتی ہے۔

یہ بات "علی لاریجانی" نے اتوار کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے آسٹرین وزیر خارجہ "الگزیندر شالنبرگ" کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آسٹریا نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر تعاون کیا ہمیں امید ہے کہ آپ کا دورہ ایران دو طرفہ تعلقات کو فروغ میں مدد کرے۔
لاریجانی نے جوہری معاہدے کی تازہ ترین تبدیلیوں اور یورپی ممالک کے موقفوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی صورتحال  ثابت کرتی ہے کہ یورپ گزشتہ سال سے صرف بات کرتا ہے اور ہمارے ملک کے اقتصادی مفادات کو فراہم نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید جنرل سلیمانی کی بہادریوں کی وجہ سے خطے میں داعش دہشتگردوں کا بحران خاتمہ کیا گیا، ہم نے داعش سے مقابلہ کیا مگر ٹرمپ نے صرف دعوی کیا اور آپ کو معلوم ہے کہ کس نے داعش دہشتگردوں کو پیدا کیا۔
انہوں نے ایران کے لئے یورپ کے مالیاتی میکنزم اینسٹکس کی ناکامی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مالیاتی چینل کوئی فائدہ نہیں رکھتا ہے۔
آسٹرین وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم جوہری معاہدے کے تحفظ اور جاری رکھنے کے لئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
شالنبرگ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ آسٹریا اور یورپ کے گہرے تعلقات کی مبنی پر علاقے میں باہمی اعتماد قائم کرنے کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا  کہ ایران نے سرگرم ملک کے طورپر ہرمز امن منصوبے کو پیش کیا جسے ایک مثبت قدم ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی، ماحولیاتی، پانی، گندے پانی اور بحران کے انتظام کے شعبوں میں باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس شعبوں میں اچھے تعلقات قائم کئے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کے حکام کے دورے ایران ان کے موقف کی تبدیلی کی علامت ہے اور ہم اس ملک کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ اور جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے کوشش کرتے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 13 =