یورپ امریکی غیر قانونی اقدمات کیخلاف مزاحمت کرے: ایرانی صدر

 تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کہا کہ یورپی یونین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ امریکی غیر قانونی اقدامات کیخلاف مزاحمت کرے۔

 انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایران مخالف امریکی پابندیاں کرونا وائرس جیسی ہیں جس سے خوف، حقیقت سے زیادہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے آسٹریا کے وزیر خارجہ کیساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کیلئے بے پناہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ آسٹریا، باہمی تعلقات کی تقویت کیلئے امریکی غیر قانونی پابندیوں کی پروا نہ کرے گا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ جوہری معاہدے کا تعلق صرف ایران، یورپ یا کہ 5+1 گروپ کا نہیں بلکہ پورے علاقے اور دنیا میں امن اوراستحکام لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم ابھی بھی جوہری معاہدے کو تحفظ کرسکتے ہیں۔

 ایرانی صدر نے کہا کہ جوہری معاہدے ایران اور مغربی ممالک بشمول یورپ اور امریکہ کے درمیان نئے باہمی اعتماد لانے میں موثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے حصے میں جوہری معاہدے سے متعلق کیے گئے وعدوں کی پابندی کی ہے۔

صدر روحانی نے ایرانی قوم کیخلاف امریکی معاشی پابندی کیساتھ ان کیخلاف ادویات اور خوراک پر پابندیاں عائد کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکہ کے اس اقدام کو دہشتگردانہ قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ  توقع کی جاتی ہے کہ یورپی یونین اس حوالے سے اپنے انسانہ دوستانہ فرائض کو نبھائے۔

صدر روحانی نے کہا کہ خطی سلامتی صرف علاقے کے ممالک کے ذریعے فراہم ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی بہت اہم آبناؤں میں سلامتی کی کمی نظر میں آئی ہے اور بہت سارے ممالک جیسے یمن، شام، عراق اور افغانستان کی سیکورٹی صورتحال مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے ایران کیجانب سے پیش کردہ  ہرمز امن منصوبے کا ذکر کیا اور کہا کہ بہت سارے ممالک نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔

صدر روحانی نے ہمارے علاقے کے تمام مسائل اور مشکلات خطے میں امریکی غیرقانوی مداخلت کی وجہ سے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقے کی سلامتی، یورپ سمیت پوری دنیا کی توانائی راستوں کی سلامتی کیلئے اہم ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے اس امید کا اظہار کردیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید اضافہ ہوجائیں گے۔

ہرمز امن منصوبہ خطی امن اور استحکام کیلئے روڈ میپ ثابت ہوسکتا ہے

اس موقع پر آسٹرین وزیر خارجہ "الکساندر شالنبرگ" نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو دوستانہ اور تاریخی قرار دیتے ہوئے تمام شعبوں بالخصوص اقتصادی اور تجارتی میدان میں باہمی تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔

انہوں نے ایران اور گروپ 5+1 کے درمیان جوہری مذاکرات سے متعلق ویانا کی میزبانی کا ذکر کیا اور کہا کہ ایران جوہری معاہدہ، علاقے اور دنیا کے درمیان باہمی اعتماد لانے کا ایک اہم سنگ میل ہے۔

آسٹریا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی اصل پالیسی جوہری معاہدے کا تحفظ ہے اور ہم اس حوالے سے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔

انہوں نے علاقے اور دنیا میں قیام امن و استحکام لانے میں جوہری معاہدے کے کردار پر زور دیا اور ساتھں ہی علاقے کی سلامتی اور امن کو برقرار کرنے میں ایران کے تعمیری کردار کو سراہا۔

شالنبرگ نےکہا کہ ہزمر امن منصوبے کو خطی امن و استحکام کیلئے روڈ میپ ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے اس منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس راستے میں مثبت کردار ادا کرنے پر دلچسبی کا اظہار کردیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 15 =