جوہری معاہدے سے متعلق یورپ سے مذاکرات کی راہیں کھلی ہیں: روحانی

 تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ممکلت نے جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے یورپی یونین سے مذاکرت کی راہوں کو بند نہیں کیا ہے۔

انہوں نے ایران جوہری معاہدے کو خطے اور دنیا کے مفادات میں قرار دیا اور کہا کہ اس معاہدے سے امریکی علحیدگی علاقے اور دنیا کے علاوہ امریکہ کو بھی نقصان پہنچے گا۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے ہفتہ کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے ہالینڈ کے وزیر خارجہ "استف بلوک" سے ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے باہمی سیاسی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ پر دلچسبی کا اظہار کردیا۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد دوسرے ممالک سے تعمیری تعاون پر استوار ہے اور ہم یورپی یونین سے گہرے تعلقات پر دلچسبی رکھتے ہیں۔

انہوں نے ایران مخالف امریکی غیر قانونی پابندیوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ امریکی ظالمانہ پابندیاں، خوارک اور ادویات پر بھی مشتمل ہیں اور دنیا کی آزاد قوموں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک ہوکر ان ظالمانہ پابندیوں کی مذمت کریں۔

ایرانی صدر نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کا ذکر کرتے ہوئے اسے خطے اور دنیا کے مفادات میں قرار دیا اور کہا کہ اس معاہدے سے امریکی علحیدہ علاقے اور دنیا کے علاوہ امریکہ کو بھی نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ ابھی جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی سے 21 مہینے گزر گئے ہیں اور یورپی یونین اب تک اپنے کیے گئے وعدوں سے متعلق کوئی موثر اقدام نہ کرسکی۔

 صدر روحانی نے علاقے میں بدامنی کی جڑ کو امریکی موجودگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراقی پارلیمنٹ میں عراق سے امریکی فوجی کی واپسی کا بل پاس کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں امریکی فوجیوں کی موجودگی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ساتھ ہی افغانستان کے عوام، اپنی سرزمین میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے مخالف ہیں۔

 ایرانی صدر نے کہا کہ خطی سلامتی کو صرف خطی ممالک کے ذریعے فراہم کرنا ہوگا اور خلیج فارس میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی علاقے کی سلامتی کے مفادات میں نہیں ہے۔

انہوں نے علاقائی مسائل سے متعلق یورپی یونین سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس بات کے پیش نظر کے ہالینڈ دی ہیگ عالمی عدالت میں بڑے وکلاء کی میزبانی کر رہا ہے توہم علاقائی امن و سلامتی سے متعلق منطق پر مبنی مذاکرات کرسکتے ہیں۔

 جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی صحیح نہیں تھی

 اس موقع پر ہالینڈ کے وزیر خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص اقتصادی میدان میں تعلقات کے فروغ پر دلچسبی کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ ان کا ملک انسٹیکس میکنزم میں فعال کردار ادا کر سکے گا۔

استف بلوک نے جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے بارہا امریکی حکام کو کہہ دیا کہ جوہری معاہدے کی علیحدگی صحیح اقدام نہیں ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔

ہالینڈ کے وزیر خارجہ نے اس مہم کے حصول کیلئے باہمی مشاورت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 8 =