ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ایران کا شامل ہونا سیاسی اقدام ہے

تہران، ارنا - ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بین الاقوامی مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ میں ایران کے شامل کرنے کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمارے ملک پر کبھی بھی منی لانڈرنگ یا دہشت گردوں کی مالی اعانت کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا ہے.

یہ بات "سید عباس موسوی" نے جمعہ کے روز ایف اے ٹی ایف کے ایران کے خلاف اقدامات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے اس بات پر زور دیا اور کہا کہ ایران دو سال سے زائد عرصے سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف جنگ سے متعلق تمام قوانین اور ضوابط کو صحیح طریقے سے نفاذ کررہا ہے.
موسوی نے کہا کہ بین الاقوامی میکانزم کے فوائد اور نقصانات ہیں ، لیکن ہونے والی تمام کوششوں اور تمام ضوابط کے باوجود ایران کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ پر شامل کردیا گیا.
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ، یہ امریکہ ، سعودی عرب اور ناجائز صہیونی ریاست کے ذریعہ بین الاقوامی میکانزم کی سیاست ہے جسے عالمی اداروں پر اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے اس مسئلے کی پالیسی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں.
ست انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب ، دہشت گردی کا مرکزی بینک سمجھا جاتا ہے اور ناجائز صیہونی دہشت گرد ریاست دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کو سب سے زیادہ مدد فراہم کررہی ہے تاہم ایران جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف جنگ کے میدان میں فعال کردار ادا کرتا ہے، کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا گیا ہے.
رائٹرز خبررساں ادارے کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف بین الاقوامی اصولوں کی عدم تعمیل کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنی بلیک لیسٹ میں شامل کردیا.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے.IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 3 =