15 فروری، 2020 6:59 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83675645
0 Persons
سعودی عرب سے مذاکرات پر تیار ہیں: ظریف

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک تمام ہمسایہ ممالک بشمول سعودی عرب سے مذاکرات پر تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اپنے ہمسایوں کی سلامتی کو اپنی ہی سلامتی سمجھتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے میونیخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر بی بی سی نیوز چینل کی خاتون صحافی "لیز دوست" کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ظریف نے مزید کہا کہ ایرانی قدس فورس کے کمانڈر جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد سعودی عرب نے ایران کو پیغام دیا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران سے مذاکرات پر دلچسبی رکھتا ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب کے پیغام کا مثبت جواب دیا لیکن ان کیجانب سے کوئی اور پاسخ موصول نہیں ہوا۔

ظریف نے اس بات پر زور دیا کہ ایران، ہمسایہ ممالک سے کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے اور اپنے ہمسایوں کی سلامتی کو اپنی ہی سلامتی سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کا علاقہ تمام ہمسایوں کا ہے اور خطی ممالک کو جاننا چاہیے کہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست ہمارے خطے میں امن نہیں لاسکتے بلکہ صرف خطی ممالک، علاقے میں قیام امن اور استحکام برقرار کر سکتے ہیں۔

ظریف نے مزید کہا کہ گر ہمسایہ ممالک چاہیں تو کشیدگی کے خاتمے کیلئے بہت اور راستے موجود ہیں لیکن یہاں سب سے اہم بات پڑوسی ممالک کا واقعی عزم و ارادہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے "کیا ایران کو سعودی عرب کیجانب سے خطی کشیدگی کے خاتمے سمیت ہرمز امن منصوبے سے متعلق کوئی مثبت سگنل موصول ہوا ہے؟"، کے سوال کے جواب میں کہا کہ نہیں ابھی تک کوئی مثبت سگنل وصول نہیں ہوا ہے۔

 ظریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر کی تجویز کردہ ہرمز امن منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کویت، قطر اور عمان نے اس منصوبے میں شرکت کرنے پر دلچسبی کا اظہار کر دیا ہے لیکن اب تک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے کوئی پاسخ موصول نہیں ہوا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ عربستان اور سعودی عرب خطے میں کشیدگی کے خواہاں ہیں۔

ظریف نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کیجانب سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست مذاکرات کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اسی تجویز کا مثبت پاسخ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کل ہی مذاکرات پر تیار ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم "نواز شریف" نے بھی اسی تجویز کو پیش کیا تھا۔

انہوں نے جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد عراق اور دوسرے ممالک میں وہ افراد جو ایرانی عوام اور حکومت سے اظہار ہمدردی کیلئے سڑکوں پر آئے ہوئے تھے، کو ایرانی پروکسی اہلکار قرار دینے کا مسترد کر دیا۔

ظریف نے کہا کہ وہ عام عوام ہیں جو بہت قابل احترام ہیں اور امریکی اقدامات سے غصے میں ہیں اور وہ صرف عراق میں نہیں ہے بلکہ بھارت، اٹلی اور روس میں بھی جو جنرل سلیمانی کی تصویر کو ساتھ لے کے سڑکوں پر نکل گئے تھے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 6 =