10 فروری، 2020 5:19 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83669694
0 Persons
جنرل سلیمانی خطے میں قیام امن کے خواہاں تھے: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کہا کہ جنرل سلیمانی علاقے میں قیام امن و استحکام کے خواہاں تھے وہ اگر چاہتے آسانی سے امریکی کمانڈرز کا قتل کر سکتے لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔

 ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کے روز ایران میں تعنیات غیر ملکی سفیروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 41 سال پہلے ایرانی عظیم قوم ملک میں صدیوں کی آمریت اور کرپٹ حکمرانوں کی حکمرانی سے تنگ ہوگئے تھے۔

صدر روحانی نے کہا کہ وہ ایک منصف انسانی معاشرے کے مستقبل سے مایوس اور ملک کے امور میں بیرونی مداخلت سے تنگ تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت وہ بانی اسلامی انقلاب حضرت امام خمینی (رہ) کی رہنمایی سے اس ظالم حکمرانوں کی حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوکر اسلامی انقلاب کے نقش قدم پر چل گئے۔

 ایک عظیم قوم کبھی غنڈوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی

 صدر روحانی نے مزید کہا کہ امریکی حکام اس خام خیالی میں تھے کہ اگر وہ ایرانی برآمدات اور درآمدات کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال دیں تو وہ ان کے سامنے ہتیھار ڈالیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ وہ جو ایرانی تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر واقف ہیں بخوبی جانتے ہیں کہ ایرانی عظیم قوم کبھی غنڈوں کیخلاف سر نہیں جھکائیں گے۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ امریکہ نے گزشتہ 20 مہینوں سے اب تک ایرانی عوام کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ لگانے کا ر ویہ اپنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صرف گزشتہ 8 مہینوں کے دوران ایرانی معیشت سے متعلق اعداد و شمار پر نظر ڈالیں و آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہم نے ایران مخالف امریکی پابندیوں سے سرخرو نکل گئے۔

امریکہ اپنے ہی وعدوں پر قائم نہیں

صدر روحانی نے اسی عرصے کے دوران ایرانی عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اپنے اس رویے سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے ہی وعدوں پر پابند نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود اپنی عزت کو نقصان پہنچاتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ وہ کبھی بین الاقوامی قوانین پر قائم نہیں ہیں۔

صدر روحانی نے کہا کہ واشنگٹن نے ایرانی ادویات کیخلاف پابندی لگاکر تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے امریکہ کے اس اقدام کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا یہ اقدام عالمی عدالت انصاف کی رائے کیخلاف ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کونسل کی قرارد اد نمبر 2231 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی قوم کیخلاف سنگین جرم کیا ہے۔

بدعہدی اور قانون کی خلاف ورزی فخر کی بات نہیں ہے

صدر ر وحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی فوجی کمانڈر کو ہمسایہ مملک کی سرزمین پر وہ بھی ایک ایسے وقت جب وہ ان کے سرکاری مہماں تھے، کا قتل کرنا، ایک سنگین جرم ہےایک ایسا جرم جو تمام بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں سب کو یقین ہے کہ جنرل سلیمانی خطی سلامتی اور امن کے خواہاں تھے۔

عراق اور افغانستان میں امریکی کمانڈرز کا قتل جنرل سلیمانی کیلئے بہت آسان کام تھا

ایرانی صدر نے کہا کہ اگر جنرل سلیمانی چاہتے تو ان کیلئے عراق اور افغانستان اور کسی اور بھی جگہ میں میں امریکی کمانڈرز کا قتل بہت ہی آسان کام تھا لیکن انہوں نے کبھی ایسا ہی نہیں کیا۔

انہوں نے فلسطینی عوام کیخلاف امریکی جرائم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق فلسطین کی سرزمین، فلسطینی عوام کی ہے ۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 6 =