بھارت چابہار پورٹ کے ذریعے وسطی ایشیا سے تجارتی تعلقات کے فروغ کا خواہاں

 دہلی نو، ارنا- بھارتی وزیر خارجہ نے جنوبی اور وسطی ایشیا کی زمینی راستوں سے عدم رسائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک ایران کے چابہار بندرگاہ کے ذریعے باہمی تجارت کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ایئر کوریڈورز کی تشکیل بھی کر سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار جی شنکر نے جمعہ کے روز وسطی ایشیا اور بھارت کی تجارتی کونسل کے درمیان منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہون نے مزید کہا کہ  بھارت کا ارادہ ہے کہ ایرانی بندرگاہ چابہار کے ذریعے بھارت اور وسطی ایشیا کی زمینی راستوں کی عدم رسائی پر غلبہ پاسکے۔

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ کی بڑے صلاحتیں ہیں لیکن یہاں ہیمں زمینی راستوں کی کمی کا سامنا ہے جس کو چابہار بندرگاہ کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان، ایران اور افغانستان کا عقیدہ ہے ہے کہ چابہار بندرگاہ، بھارتی سامان افغانستان اور اس سے آگے وسطی ایشیاء میں بھیجنے کیلئے ایک اہم مواصلاتی مرکز بن جائے گی۔

قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان وسطی ایشیا کے حصہ ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی حکومت نے نے 2020۔2021 سال کے اپنے مجوزہ بجٹ میں چابہار بندرگاہ کی ترقی کیلئے مختص بجٹ کو گذشتہ سال کے مقابلے می دو گنا کردیا ہے جو تقریبا 140 لاکھ ڈالر ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ چابہار پورٹ کے بجٹ میں اضافے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دہلی نو اسی بندرگاہ کی ترقی اور اس کو ایک مناسب مواصلاتی مرکز بنانے کیلئے پُر عزم ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 2 =