5 فروری، 2020 9:50 AM
Journalist ID: 2392
News Code: 83661542
0 Persons
ظریف کی ڈیل آف سنچری کی مذمت

تہران، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں شرمناک امن منصوبے صدی کی ڈیل کی شدید مذمت کی ہے.

"محمد جواد ظریف" نے منگل کے روز "محمود عباس" کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران امریکی حکومت کے "صدی کی ڈیل" معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی جانب سے قدس کے دارالخلافہ کے تحت ایک خودمختار ملک قائم کرنے کی حمایت پر زور دیا.
محمود عباس نے امریکی منصوبے کے خلاف فلسطین کا موقف اور اس سازش کی تباہی کے لئے ایک عالمی یکجہتی کی دستیابی پر سیاسی کاروائیوں کی وضاحت کی.
انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ کو قومی اتحاد کے حصول کی کوششوں سے بھی آگاہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ جلد ایک وفد فلسطینی گروہوں کے ساتھ ایک نشست کے لئے غزہ پٹی روانہ ہوگا.
ایرانی وزیر خارجہ نے فلسطینیوں کے مابین قومی مفاہمت کے حصول کی کوششوں کے لئے تہران کی حمایت پر بھی زور دیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناجائر صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس میں مشرق وسطٰی میں قیام امن کے لیے اپنا منصوبہ پیش کیا۔
وائٹ ہاوس میں منعقدہ اس تقریب میں فلسطین کے کسی نمائندے کو مدعو ہی نہیں کیا گیا جب کہ تقریب میں عمان، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں نے شرکت کی۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ کا کہناہے کہ اسرائیل فلسطین امن کے لیے 1967 سے پہلے کی حد بندی کے ساتھ ہیں۔
امریکی صدر کی جانب سے اعلان کیے جانے والے نام نہاد امن منصوبے میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رکھنے کا عہد شامل ہے جب کہ فلسطین کو مقبوضہ مشرقی یروشلم کے اندر دارالحکومت بنانے کی اجازت ہوگی۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 3 =