فلسطین سے متعلق قائد اسلامی انقلاب کی تجویز سب سے زیادہ معقول ہے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فلسطین سے متعلق قائد اسلامی انقلاب کی تجویز سب سے زیادہ معقول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ تمام فلسطینی عوام چاہے وہ عیسائی ہو یا مسلمان، کی آواز سن لیں تا کہ وہ ایک جمہوری عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرلیں۔

ظریف نے امریکی صدر کیجانب سے نام نہاد امن منصوبہ صدی کی ڈیل کو ایک خطرناک اقدام قرار دیا اور کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے بھی اس حوالے سے امریکی اقدام کے مخالف تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے اس منصوبے کی رونمائی سے فلسطینی مسلئے کے حل میں شریک ہونے کی حیثیت کو کھوچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام کے حالیہ اقدامات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اورفلسطین کی سرزمین پر قبضہ جمانے کیلئے ناجائز صہیونی ریاست سے کہیں زیادہ پر پزم ہے۔

ظریف نے مزید کہا کہ لہذا امریکہ کو فلسطینی مسئلے کے حل میں شریک ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور صرف فلسطینی عوام اپنے مستقبل کا فیصہ کرسکتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناجائر صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس میں مشرق وسطٰی میں قیام امن کے لیے اپنا منصوبہ پیش کیا۔

وائٹ ہاوس میں منعقدہ اس تقریب میں فلسطین کے کسی نمائندے کو مدعو ہی نہیں کیا گیا جب کہ تقریب میں عمان، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں نے شرکت کی۔

اس حوالے سے اقوام متحدہ کا کہناہے کہ اسرائیل فلسطین امن کے لیے 1967 سے پہلے کی حد بندی کے ساتھ ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے اعلان کیے جانے والے نام نہاد امن منصوبے میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رکھنے کا عہد شامل ہے جب کہ فلسطین کو مقبوضہ مشرقی یروشلم کے اندر دارالحکومت بنانے کی اجازت ہوگی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 4 =