سعودی عرب نے ایران کو صدی کی ڈیل سے متعلق اجلاس کی شرکت سے روک دیا

تہران، ارنا-  ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب نے جدہ میں واقع اسلامی تعاون تنظیم کے ہیڈ کوارٹر میں "صدی کی ڈیل" کے جائزہ سے متعلق منعقدہ نشست کی شرکت سے روک دیا۔

سید "عباس موسوی" نے کہا کہ امریکی صدر کیجانب سے صدی کی ڈیل منصوبے کی رونمائی کے بعد، فلسطینی حکومت کی تجویز اور اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ کی دعوت پر 3 فروری کو او آئی سی تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تا کہ اس موضوع کا جائزہ لے کر اس سے متعلق مناسب موقف اخیتار کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس کا اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی سطح پر سعودی عرب کے شہر جدہ میں واقع او آئی سی تنظیم کے سیکرٹریٹ کے صدر دفتر انعقاد کیا جائے گا۔

 موسوی نے مزید کہا کہ اس بات کے با وجود کہ اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے ایران کو اس اجلاس میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے تا ہم سعودی عرب نے نائب ایرانی وزیر خارجہ "حسین جابری انصاری" کی قیادت میں ایرانی وفد کیلئے ویزہ جاری نہیں کیا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، حالیہ مہینوں کے دوران، جدہ میں واقع  اسلامی تعاون تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہونے والے او آئی سی کے اجلاسوں میں اسلامی جمہوریہ ایران سمیت بعض ممبر ممالک کے وفود کی شرکت میں روڑے اٹکا رہا ہے۔

 موسوی نے کہا کہ ایرانی محکمہ خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹریٹ کو ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ بھیج دیا ہے جس میں سعودی عرب کیجانب سے تنظیم کے صدر دفتر کی میزبانی کرنے کے قوانین کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے۔

 انہوں کہا کہ اس مراسلے میں او آئی سی تنظیم کے اجلاسوں خاص طور فلسطین جیسے اہم مسئلے پر رکن ممالک کی آزاد شرکت پر پابندیاں عائد کرنے کی وجہ سے اسلامی تعاون تنظیم کے صدر دفتر کی میزبانی جاری رکھنے کیلئے سعودی عرب کی حکومت کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 4 =