صدی کی ڈیل نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے: ایرانی اسپیکر

تہران، ارنا-  ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنے لبنانی ہم منصب کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں کہا ہے کہ اس منصوبے نے نہ صرف فسطینی عوام کے حق کی پامالی کی ہے بلکہ تمام مسلمانون کے جذبات کو بھی مجروح کیا ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ نام نہاد امن منصوبہ صدی کی ڈیل کو حتمی شکست کا سامنا ہوگا۔

 تفصیلات کے مطابق علی لاریجانی نے بدھ کے روز "نبیہ بری" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، صدی کی ڈیل سے متعلق بات چیت کی۔

اس موقع پر لاریجانی نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو حتمی شکست کا سامنا ہوگا کیونکہ فلسطینی عوام کی جدوجہد اور مزاحمت کی تاریخ ایسے جعلی اور غیر حقیقی منصوبوں سے کہیں زیادہ موثر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ناجائر صہیونی ریاست اس خام خیالی میں ہیں کہ قدس فورس کے کمانڈر جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد مزاحمتی فرنٹ کمروز ہوگیا ہے اور وہ مسلم ممالک کیخلاف ہرکسی قسم کی سازش کر سکتے ہیں حالانکہ اللہ رب العزت کی مدد سے مزاحتمی فرنٹ اور مضبوط ہوگیا ہے۔

لاریجانی نے برکینافاسو میں اسلامی مجالس کی نشست کے انعقاد پر تبصرہ کرتے ہوئے تمام اسلامی ملکوں کے درمیان یکجہتی اور بالخصوص اسلامی پارلیمنٹوں کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے فلسطینی عوام کے حق کے دفاع اور جعلی امن منصوبہ صدی کی ڈیل کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے مناسب طریقہ حل نکالنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 اس موقع پر لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی صدی کی ڈیل کو فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اور اس تاریخی سرزمین سے ان کو باہر کرنے کی سازش قرار دے دیا۔

انہوں نے صہیونی ریاست کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو تسلیم کرنے کا مطلب فلسطینی سرزمین پر جارح قوموں کا مکمل قبضہ ہے۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی پارلمینٹ کے اسپیکر نے اس سے پہلے اپنے دیگر اسلامی ممالک کے ہم منصبوں کے نام میں ایک خط میں کہا ہے کہ صدی کی ڈیل، فلسطین کے مسئلے کے حل کیلئے تمام بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

 انہوں نے مزید کہا ہے کہ صدی کی ڈیل، مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے تمام بین الاقوامی معاہدوں، اقوام متحدہ کے چارٹر، عرب اتحادی اور اسلامی تعاون کونسل کے قوانین اور معاہدوں کی خلاف وزی ہے۔

علی لاریجانی نے اس خطے میں امریکی صدر کیجانب سے نام نہاد امن منصوبہ صدی کی ڈیل کی رونمائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک سے اس خصمانہ اقدام کیخلاف مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی مسئلہ کے حل کیلئے استصواب رائے کے انعقاد اور پارلیمانی سفارتکاری کو بروئے کار لانے کی بھر پور حمایت کریں۔

لاریجانی نے مزید کہا کہ امریکی صدر ،اپنے ذاتی مفادات سمیت ناجائز صہیونی ریاست کے مفادات کی بنا پر طاقت اور جبر کے ذریعے ایک اسلامی ملک پر قبضے کو قانونی شکل اختیار دینے کے درپے ہیں اوراسی اقدام کیساتھ فلسطینی مہذب عوام کے حقوق کو صہیونیوں کے حق میں پاوں تلے روندنا چاہتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناجائر صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس میں مشرق وسطٰی میں قیام امن کے لیے اپنا منصوبہ پیش کیا۔

وائٹ ہاوس میں منعقدہ اس تقریب میں فلسطین کے کسی نمائندے کو مدعو ہی نہیں کیا گیا جب کہ تقریب میں عمان، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں نے شرکت کی۔

 اس حوالے سے اقوام متحدہ کا کہناہے کہ اسرائیل فلسطین امن کے لیے 1967 سے پہلے کی حد بندی کے ساتھ ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے اعلان کیے جانے والے نام نہاد امن منصوبے میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رکھنے کا عہد شامل ہے جب کہ فلسطین کو مقبوضہ مشرقی یروشلم کے اندر دارالحکومت بنانے کی اجازت ہوگی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 13 =