امریکی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کو شکست کھا چکا ہے: عراقچی

تہران، ارنا- نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قآانی کیخلاف امریکہ کے ایک عہدیدار کی ہرزہ سرایوں کے رد عمل میں کہا ہے کہ امریکی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کو شکست کھا چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس عراقچی" نے آج بروز ہفتہ کو ایک ٹوئٹر پیغام میں امریکی حکومت میں ایرانی امور کے مخصوص نمائندہ "برایان ہوک" کے حالیہ بیانات کے رد عمل میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ظاہر ہے کہ ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی کو شکست کھا چکا ہے لیکن وائٹ ہاوس کے حکام؛ جنہیں جنگی جنون کا شکار ہیں اور ایران کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں ویسے ہی اسی پالیسی کو اپنانے کے حق میں ہیں۔

عراقچی نے کہا کہ امریکی ریاستی دہشتگردی میں ایرانی ہیرو کا قتل در اصل خطے میں ان موجودگی کے اختتام کا آغاز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب بھی امریکی محکمہ خارجہ میں نچلے درجے کے عہدیدار جو عراق میں امریکی مخالف مظاہروں کو نہیں دیکھ سکتے، وہ ایران کے ایک اور کمانڈر کی دہمکی دینے لگتے ہیں۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ برایان ہوک نے حالیہ دنوں میں اس بات کا دعوی کیا تھا کہ اگر ایرانی قدس فورس کے نئے کمانڈر بھب جنرل سلیمانی کے نقش قدم پر چلیں تو ان کا انجام جنرل سلیمانی جیسا ہوگا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب  کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومهدی المهندس" شہید ہوگئے۔

پاسداران انقلاب کی فضائیہ نے امریکی حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کا بدلہ لیتے ہوئے عراق میں امریکیوں کے زیر استعمال فوجی اڈوں پر میزائل حملے کردیے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 14 =