ایران امریکہ کے مذاکرات کے امکان کو مسترد نہیں کیا گیا ہے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی رویے میں تبدیلی آنے اور ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھایا جانے کی صورت میں امریکہ کیساتھ مذاکرات کے امکان کا مسترد نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جود ظریف" نے جرمن جردیدے اشپیگل کیساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کیجانب سے ایران کیخلاف لگائی گئی پابندیوں کا از سر نو نفاذ کے امکان پر ایران کے رد عمل سے متعلق کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے جوہری معاہدے کے یورپی فریقین کے نام میں ایک خط میں ان کو ایران کے اقدامات سے آگاہی دی ہے۔

ظریف نے اس بات پر زور دیا کہ  ایران مخالف اقوام متحدہ کی پابندیوں کے از سرنو نفاذ کا ذمہ دار یورپ ہی ہے۔

انہوں نے امریکی دہشتگردانہ حملے میں قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر ایران کی جوابی کاروائی اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر مزید حملے سے متعلق کہا ہے کہ امریکی فوجی اڈے عین الاسد پر ایران کا حملہ در اصل ایران کا باقاعدہ فوجی رد عمل تھا جس میں انسانی جانوں کی تباہی کا کوئی اراد ہ نہیں تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اپنی سرزمین کے دفاع کے حق کو اچھے انداز میں مظاہرہ کیا لیکن خطی عوام امریکہ کیخلاف حقیقی جوابی رد عمل دیں گے اور امریکی برتاؤ سے اپنی نفرت کا مظاہرہ کریں گے۔

انہوں نے ان پی ٹی معاہدے سے ایرانی علیحدگی کی دہمکی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس بات کو ایرانی صدر کے خط میں واضح کیا گیا ہے۔

اس موقع پر اشپیگل کے نمائندے نے کہا کہ کیا اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ایران کو جوہری بم تیار کرنے کا ارادہ ہے؟ جس کا ایرانی وزیر خارجہ نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم  نہ ان پی ٹی معاہدے کی وجہ سے بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اخلاقی اور اسٹریٹجک رجحانات کی بنا پر جوہری بم تیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 5 =