امریکہ، ایران میں نظام تبدیل نہیں کرسکتا: پاکستانی تجزیہ کار

اسلام آباد، ارنا - خاتون پاکستانی تجزیہ کار نے کہا ہے کہ امریکہ نہ صرف ایران میں نظام کو تبدیل نہیں کرسکتا بلکہ وہ ایران پر حملے کی جرات بھی نہیں رکھتا.

یہ بات کراچی کی بین الاقوامی تعلقات یونیورسٹی کی سابق سربراہ ڈاکٹر "طلعت وزارت" نے ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات سے متعلقہ نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ مختلف وجوہات کے ساتھ ایرانی حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے مگر آج ایران ماضی سے مختلف ہے اور امریکہ اپنے مقصد کو حاصل نہیں کرسکتا ہے۔
طلعت نے کہا کہ امریکہ چار وجوہات کی بناپر ایران مخالف اقدامات کرتا ہے:
پہلا: ایران نے علاقے میں امریکی کاروائی کو روک کردیا ہے، امریکہ افغانستان، عراق اور لیبی کی حکومتوں کی تبدیلی کے بعد شامی حکومت کی تبدیلی چاہتا تھا مگر اسلامی جمہوریہ ایران نے اس منصوبے کو روک کردیا۔
دوسرا: ایران اور مزاحمتی گروہوں نے خطے پر ناجائز صہیونی ریاست کے قبضہ جمالینے کو ناکام بنا دیا۔
تیسرا: امریکہ نے بڑے علاقائی ممالک سمیت ایران کی تقسیم کے لئے منصوبہ بندی کی ہے۔
چوتھا: امریکہ نہیں چاہتا کہ چین خطے بالخصوص ایران کے عظیم وسائل کو حاصل کرے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے موجودہ مسائل اسلامی انقلاب سے پہلے اور بعد میں ، ایران مخالف امریکی اقدامات کی جڑیں ہیں۔
خاتون پاکستانی نے کہا کہ ان تمام مسائل کے باوجود امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کی جرات نہیں رکھتا ہے اور پاکستانی حکومت کو امریکہ کو اپنی سرزمین سے ایران پر حملہ کرنے کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ایران، پاکستان، ترکی ، سعودی عرب ، ملائیشیا سبھی امت اسلامیہ کے اتحاد و اتفاق کا محور بن سکتے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 3 =