جنرل سلیمانی کے قتل کا مقصد علاقے میں تنازعات کو بڑھانا تھا: ایرانی مندوب

نیویارک، ارنا – اقوام متحدہ میں تعینات ایرانی مستقل مندوب نے جنرل سلیمانی کے قتل کو ایک بزدلانہ اقدام جو سرکاری دہشتگردی اور عالمی حقوق کی خلاف ورزی کی کھلی علامت تھی ، قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سازش کا مقصد علاقے میں تنازعات کو بڑھانا تھا۔

یہ بات "مجید تخت روانچی" نے بدھ کے روز مشرق وسطی اور مسئلہ فلسطین کے موضوع کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 2020 کے ابتدائی دنوں کے موقع پر اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ تھی لہذا یہ سوال بہت ہی اہم ہے کہ کیوں سلامتی کونسل مقبوضہ فلسطین کے مسائل کو خاتمہ نہیں دے سکتی ہے؟
تخت روانچی نے کہا کہ سلامتی کونسل ملک کے اندر اور باہر لاکھوں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں کیوں ناکام ہے؟ کیوں ناجائز صہیونی ریاست جو مختلف عالمی جرائم ارتکاب کرتی ہے، سے مقابلہ نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اپنی پوزیشن سے غلطی فائدہ اٹھانے کے ساتھ جو سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہے، صہیونیوں کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کو اپنی ساکھ کی تباہی کو روکنا، جنرل سلیمانی کی شہادت کے خلاف اور مشرق وسطی میں اپنی ماضی کی غلطیوں کو دور کرنے کے مقصد سے پورے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھانا چاہیئے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 2 =