ایرانی کیس کو سلامتی کونسل بھیجنے کی صورت میں این پی ٹی سے علیحدہ ہوں گے:ظریف

تہران، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر یورپ ایرانی کیس کو سلامتی کونسل بھیجے تو ہم بھی این پی ٹی NPT معاہدے سے باہر نکلیں گے.

محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ قانونی طریقے سے ایران جوہری معاہدے میں اختلافات کے حل کا میکنزم کے استعمال کے لیے یورپی ممالک کے حالیہ فیصلے کا جائزہ لے گی.

انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ سال کے مئی مہینے میں جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد باضابطہ طور پر تنازعات کو حل کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کا آغاز کیا ہے۔

ظریف نے کہا کہ ایران نے اس حوالے سے 10 مئی 2018، 26 اگست 2018 اور نومبر 2018 کو خاتون مغرینی کے لیے تین مراسلے کو بھیجا ہے جس میں باضابطہ طورپر اعلان کردیا گیا ہے کہ ایران نے تنازعات کے حل کے عمل کو شروع کیا ہے۔

محمد جواد ظریف نے کہا کہ ہم نے نومبر 2018 میں مغرینی کو ایک خط لکھ کر اس بات پر زوردیا کہ ایران نے تنازعات کے تصفیے کے طریقہ کار کو شروع اور مکمل کردیا ہے اور اسی وجہ سے ہمیں اپنے جوہری وعدوں کو کم کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے پر ناگزیر ہیں.

انہوں نے کہا کہ مذکورہ خط کے بعد ایران نے یورپی یونین کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے 7 مہینے کی ڈیڈ لائن دی ہے اور مئی 2019 کو ایران نے جوہری معاہدے میں اپنے کچھ وعدوں کی معطلی کے پہلے مرحلہ کا آغاز کیا.

انہوں نے مزید کہا کہ یوروپیوں کے بیانات قانونی نہیں ہیں، لہذا اگر یورپ ایک اور قدم اٹھاتا ہے تو ایران بھی مئی 2018 میں ایرانی صدر کے خط کے مطابق این پی ٹی معاہدے سے دستبردار ہوجائے گا.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 13 =