پابندیوں نے خاص بیماروں کو شدید مشکلات کا سامنا کیا ہے: ایرانی عہدیدار

تہران، ارنا- سپین میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکہ کیجانب سے بینکاری نظام کے منقطع ہونے کی وجہ سے دوا ساز کمپنیاں ایران کو کوئی ادویات برآمد نہیں کرسکتی ہیں۔

"حسن قشقاوی" نے مزید کہا کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کی وجہ سے خاص امراض کا شکار بیماروں کو ضروری ادویات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں نایاب بیماروں کی تنظیم کے سربراہ نے گزشتہ دومہنیوں کے دوران میڈریڈ کا دورہ کیا تا کہ خاص بیماروں کی ضروری ادویات کو وہاں سے فراہم کریں لیکن دواساز کمپنیوں نے کہا کہ وہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو ادویات فروخت نہیں کر سکتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران اپنی 97 فیصد ادویات کی ضروریات کو ملک کے اندر سے پورا کرتا ہے مگر ان میں سے 50 فیصد ادویات کی تیاری کرنے کے لئے بنیادی چیزیں باہر سے منگوانی پڑتی ہیں کیونکہ ایک دوائی کو بنانے کے لئے کئی قسم کی چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے.

بعض ادویات اور ویکسین بالخصوص لاعلاج بیماریوں کے لئے مہنگی دوائیں کی پیداواری کا معاشی جواز نہیں ہے لہذا رقم کی منتقلی کے لئے درآمدات اور مالیاتی طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

ادویات کی وصولی کے لئے قائم ہونے والے مالیاتی چینلز نے ابھی تک کوئی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے حتی انسٹیکس مالیاتی نظام بھی دوائیں کے مسائل کے حل کے لئے مددگار نہیں ثابت ہوگیا.

اگر مغربی دنیا ادویات پابندیوں کی وجہ سے ایرانی حکام کے استقامت کو منظور نہیں کرتی ہے تو ان پابندیوں کے نتیجے میں بیماروں کے لئے پیش آنے والے مشکلات کو انکار نہیں کرسکتی ہے.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 7 =